سیشن جج پر برہمی۔۔چیف جسٹس کا طریقہ کار غلط نکلا

فون پٹخنے سے بہتر تھا، سیشن جج کو کیسے سمجھاتے۔۔۔ ثاقب نثار کو صحیح طریقہ کار بھی بتا دیا گیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ جون 11:45

سیشن جج پر برہمی۔۔چیف جسٹس کا طریقہ کار غلط نکلا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 27 جون 2018ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی عارف نظامی نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے جج کا فون اُٹھا کر پھینکا اور اس معاملے پر اپنی توہین سمجھتے ہوئے استعفیٰ دے دیا اس کے دو پہلو ہیں ۔ ایک تو تکنیکی بات یہ ہے کہ ایسی جتنی بھی عدالتیں ہیں وہ ماتحت عدالتیں ہیں،اور ہائیکورٹ کے ماتحت ہیں ،لیکن اب جب چیف جسٹس آف پاکستان ہر چیز کا از خود نوٹس لے رہے ہیں تو غالباً ایڈشنل سیشن جج کا فون اٹُھا کر پھینکنے اور عدالتوں کا دورہ کرنے پر ان کا مدعا یہ تھا کہ عدالتیں کام نہیں کر رہیں ، اور لوگوں کو بروقت انصاف نہیں ملتا۔

لیکن بد قسمتی سے آج کل ہر جگہ کیمرہ چل رہا ہوتا ہے اور چیف جسٹس نے جس انداز سے فون اُٹھا کر پھینکا اور کہا کہ آپ عدالت میں فون نہ لے کر آئیں ، اصولی طور پر ان کی بات ٹھیک تھی لیکن معذرت کے ساتھ چیف جسٹس کا طریقہ کار غلط تھا ۔

(جاری ہے)

اس سے ایک شخص کی توہین ہوئی جو شاید چیف جسٹس کا مداح نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ضمیر سولنگی نے استعفیٰ دے دیا، ان کا نام بھی ضمیر سولنگی ہے لہٰذا ان ضمیر جاگا اور انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔

چیف جسٹس کو چاہئیے تھا کہ وہ فون دیکھ کر اکیلے میں ایڈشنل سیشن جج کوکہہ دیتے کہ آئندہ ایسا نہ ہو لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔خیال رہے کہ گذشتہ روز لاڑکانہ میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی برہمی کا سامنا کرنے والے ایڈشنل سیشن جج نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ رواں ہفتے لاڑکانہ میں سیشن کورٹ کے دورے کے موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی برہمی کا سامنا کرنے والے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج گل ضمیر سولنگی نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج گل ضمیر سولنگی نے اپنا استعفیٰ رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کو بھجوایا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج گل ضمیر سولنگی کی جانب سے جمع کروائے گئے استعفے کے متن میں کہا گیا کہ میں 20 مارچ 2017ء سے لاڑکانہ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کے عہدے پر کام کر رہا ہوں، چیف جسٹس ثاقب نثار نے عدالتی کارروائی کے دوران میری عدالت کا دورہ کیا، اور اس دورے کے دوران برہمی کا اظہار کیا اور میرا موبائل فون اُٹھا کر میز پر پٹخا۔

گل ضمیر سولنگی نے استعفے کے متن میں کہا کہ چیف جسٹس کے دورے کی ویڈیو الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر دکھائی گئی، جس سے میری ساکھ بری طرح متاثر ہوئی۔ جج گل ضمیر سولنگی کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں، میں اپنی نوکری جاری نہیں رکھ سکتا، لہٰذا اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہا ہوں۔ یاد رہے کہ 23 جون کو سیشن کورٹ کے دورے پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا ایسی ہوتی ہیں عدالتیں ؟ کیا ایسے کیسز چلائے جاتے ہیں؟ لاڑکانہ سیشن کورٹ میں کیسز کی سماعت دیکھتے ہوئے چیف جسٹس نے سیشن کورٹ کے ایڈشنل سیشن جج پر بھی برہمی کا اظہار کیا، چیف جسٹس نے لاڑکانہ سیشن کورٹ کے دورے کے دوران میز پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج گل ضمیر سولنگی کا موبائل فون دیکھ کر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے موبائل اُٹھا کر پٹخ دیا تھا جبکہ مذکورہ جج کے تبادلے کا بھی حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس کے موبائل پٹخنے کی ویڈیو نہ صرف الیکٹرانک میڈیا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی کافی گردش میں رہی۔ بعد ازاں ہائیکورٹ نے اس معاملے کی تردید کی اور ہائیکورٹ ذرائع کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج گل ضمیر سولنگی نے اپنا استعفیٰ سادہ کاغذ پر بھجوایا ، اس طرح کے استعفے منظور نہیں کیے جاتے۔ دوسری جانب رجسٹرارعدالت نے کہا کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج گل ضمیر سولنگی کے استعفے کا میڈیا سے پتہ چلا، ہمیں تاحال ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج گل ضمیر سولنگی کا کوئی استعفیٰ موصول نہیں ہوا، باقاعدہ لیٹر موصول ہونے پر ہی کوئی جواب دیا جا سکتا ہے۔