سوات میں ’’تعلیم دو ، ووٹ لو‘‘ کے موضوع پر سمینارکا انعقاد

بدھ جون 12:01

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) سوات میں غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے '''تعلیم دو ، ووٹ لو'' کے موضوع پر سمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں سینئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی نے بھی شرکت کی۔ سمینار میں سابق اراکین اسمبلی اور موجودہ امیدواروں نے شرکت کی اورتعلیم کے لئے اپنے حلقہ میں کئے جانے والے کاموں کے بارے میں شرکا کو آگاہ کیا۔

امیدواروں نے تعلیم کی ترقی کے بارے میں اپنا منشور بیان کیا۔ اس موقع پر حاضرین نے امیدواروں سے سوالات کئے جن کے انہوں نے جوابات دیئے۔ سمینار کے شرکا نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ ضلع سوات میں دوسرے مسائل کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم متاثر ہوئی تھی۔ اب آہستہ آہستہ حالات بہتری کی طرف جارہے ہیں۔ لڑکے اور لڑکیاں اب سکول جاتے ہیں، مگر اب بھی کافی مسائل کا شکار ہیں۔

(جاری ہے)

سوات میں جماعت پنجم کے 40.2 فی صد بچے اردو یا پشتو میں پڑھ سکتے ہیں اور سوات کے صرف 44 فی صد بچے ریاضی کے سادہ سوالات حل کرسکتے ہیں۔ سوات میں معیارِ تعلیم کی پستی کی ایک وجہ سکولوں میں سائنس کے اساتذہ کی کمی ہے۔ سوات میں حصولِ تعلیم میں سب سے بڑی رکاؤٹ پرائمری لیول کے بعد سکولوں کی کمی ہے۔ محکمہ تعلیم ضلع سوات کی رپورٹ کے مطابق 81 فیصد سکول پرائمری کے ہیں جب کہ صرف 2.3 فیصد (38سکول) ہائیر سیکنڈری ہیں، جو کہ ان کے گھروں سے بہت فاصلے پر ہیں، جو لڑکیوں کے سکول میں داخلے کی رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں۔ لڑکیوں کے سکولوں کا تناسب کم ہونا بھی لڑکیوں کے سکول میں کم داخلے کا سبب بن رہا ہے۔

متعلقہ عنوان :