پاکستانی انتخابات میں ہمارا مشن مشاہدے پر مشتمل ہو گا،سربراہ یورپی مبصر مشن

الیکشن سے قبل حالات کا جائزہ لے رہے ہیں،یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ مشن کو کس حد تک خوش آمدید کہا جا رہا ہے،انٹرویو

بدھ جون 12:41

پاکستانی انتخابات میں ہمارا مشن مشاہدے پر مشتمل ہو گا،سربراہ یورپی ..
برسلز(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) پاکستان میں ہونے والے انتخابات کے لیے یورپی یونین کے مبصر مشن کے سربراہ میشائیل گالر نے کہا ہے کہ پاکستانی میڈیا کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ جانا جا سکے کہ آیا کسی سیاسی جماعت پر زیادہ توجہ تو مرکوز نہیں کی جا رہی۔۔جرمن ریڈیو سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہمارا مشن بالکل پہلے جیسا ہی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا مشن مشاہدہ اور دریافت پر مشتمل ہے۔ ہم الیکشن سے قبل حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ سلامتی سے متعلق امور کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ مشن کو کس حد تک خوش آمدید کہا جا رہا ہے۔ ابھی تک یہ سامنے آیا ہے کہ مبصر مشن کے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔ ہم نے پہلے کے مقابلے میں اپنی ٹیم میں بھی اضافہ کیا ہے۔

(جاری ہے)

پچھلے انتخابات میں ہماری ستائیس ٹیمیں تھیں اور اس بار تیس ٹیمیں ہیں۔ یوں ہمیں مقابلتا زیادہ علاقوں تک رسائی حاصل ہو گی۔انہوںنے کہاکہ پولرآئزیشن یا معاشرے میں داخلی تقسیم صرف پاکستان ہی کا مسئلہ نہیں بلکہ جن ممالک میں بھی انتخابات ہوتے ہیں وہاں پولرآئزیشن ظاہر ہوتی ہے۔ مختلف ممالک میں اس کی وجوہات مختلف ہیں۔ یہ ضروری بھی نہیں کہ معاشرے میں داخلی تقسیم رائے دہی کے عمل پر اثر انداز ہو بلکہ یہ ووٹنگ کے عمل اور ان لوگوں کے لیے پارٹی کی پوزیشنوں کو سمجھنے میں مدد فراہم کر تی ہے، جو روز بروز کی سیاست میں دلچسپی نہیں لیتے۔

میں پارٹیوں کی جانب سے واضح موقف اپنانے کی حمایت کرتا ہوں تاکہ عوام اپنے فیصلے کر سکیں۔انہوں نے کہاکہ یہ صورتحال ابھی واضح ہو گی۔ ہم نے پچھلے الیکشن میں بھی یہی کیا تھا اور اس بار بھی ہم تمام چیزوں کا ریکارڈ رکھ رہے ہیں کہ کس پارٹی کو میڈیا پر کتنا وقت دیا جا رہا ہے۔ ہم جائزہ لے رہے کہ سرکاری و نجی میڈیا پر کس پارٹی کے بارے میں کس انداز سے بات کی جا رہی ہے، کتنی دیر اور کس وقت کی جا رہی ہے۔

کیا بات متوازن ہے، یا اس جماعت کے حق میں یا مخالفت میں۔ ان تمام چیزوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پچھلے انتخابات میں ہم نے دیکھا کہ برسر اقتدار پارٹی کو میڈیا میں مقابلتا محدود وقت دیا گیا تھا اور زیادہ تر نشریات عمران خان کی پارٹی پر مبنی تھیں۔ زیادہ تر ممالک میں پبلک براڈکاسٹر کو اس وقت کی حکومت اپنے مفاد میں استعمال کرتی آئی ہے۔

تاہم ہمارے مطابق پچھلی مرتبہ ایسا نہ تھا۔ یا پھر اس حد تک نہ تھا کہ انتخابی عمل اور اس کے نتائج پر اثر انداز ہوتا۔ پچھلے انتخابات میں تو برسر اقتدار پارٹی انتخابات ہار گئی تھی۔ ہم اس دفعہ بھی تمام چیزوں کا جائزہ لیں گے۔ ہماری ٹیم میں اردو بولنے والے مقامی لوگ بھی ہیں۔ یعنی صرف انگریزی میڈیا ہی نہیں بلکہ میڈیا کی وہ نشریات بھی ریکارڈ ہوں گی، جو لوگ سنتے دیکھتے اور پڑھتے ہیں۔