امریکہ کی17 ریاستوں کے تارکین وطن کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ پالیسیوں پر مقدمات

ٹرمپ کے اقدامات ظالمانہ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں‘بچوں کو والدین سے جدا کیے جانا غیرانسانی فعل ہے-ریاست واشنگٹن‘نیویارک اور میری لینڈ کے اٹارنی جنرلزکا موقف

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ جون 12:37

امریکہ کی17 ریاستوں کے تارکین وطن کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ پالیسیوں پر ..
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔27 جون۔2018ء) امریکہ کی17 ریاستوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر تارکین وطن کو ظالمانہ اور غیر قانونی طور پر منقسم کرنے کا ملزم ٹھہراتے ہوئے مقدمہ دائر کیا ہے۔اس کے متعلق واشنگٹن،، نیویارک اور کیلیفورنیا کے ڈیموکریٹک اٹارنی جنرلز نے قانونی چارہ جوئی کی ابتدا کی۔اس کے تحت پناہ حاصل کرنے کے لیے امریکہ آنے والوں کو داخلہ دینے سے انکار کرنے والی پالیسی کی مخالفت کی گئی ہے۔

دریں اثنا نائب امریکی صدر مائک پینس نے بغیر دستاویزات کے تارکین وطن کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہو کر اپنے بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں نہ ڈالیں۔برازیل میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران مائک پینس نے کہا جو امریکہ کا سفر کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے میرے دل کا سیدھا پیغام ہے کہ اگر آپ قانونی طور پر نہیں آتے تو مت ہی آئیے۔

(جاری ہے)

انھوں نے مزید کہا امریکہ آنے کی کوشش میں اپنی اور اپنے بچوں کی جان کو ان راستوں پر ڈال کر خطرے میں نہ ڈالیں جسے سمگلرز اور انسانی سمگلرز چلاتے ہیں۔ ریاست واشنگٹن کے شہر سیئٹیل میں داخل کی جانے والی قانونی درخواست میں صدر ٹرمپ کے 20 جون کے حکم نامے کو پرفریب کہا گیا ہے جس میں تارکین وطن کے خاندانوں کے ایک ساتھ رکھنے کا حکم ہے۔پہلی بار 17 امریکی ریاستوں کی جانب سے تارکین وطن کے خاندانوں کو علیحدہ کیے جانے کو چیلنج کیا گیا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ رپبلکن صدر کے ایگزیکٹو حکم نامے سے تارکین وطن کے خاندانوں کو ضابطے کی کارروائی اور پناہ حاصل کرنے کے حق کی نفی ہوتی ہے۔ گذشتہ ہفتے ایگزیکٹو حکم نامہ جاری کرنے سے قبل صدر ٹرمپ نے تارکین وطن کو تیزی کے ساتھ واپس بھیجنے کی بات کہی تھی۔امریکی ریاستیں عدالت کی جانب سے خاندانوں کو پھر سے ملانے کا حکم حاصل کرنا اور علیحدہ کرنے کے عمل کو آئین کے منافی قرار دے کر ان کا خاتمہ چاہتی ہیں۔

مقدمے کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے حکم میں خاندانوں کو علیحدہ کرنے کے عمل کو روکنے کا حکم نہیں ہے اور نہ ہی اس میں پہلے سے علیحدہ کر دیے جانے والے خاندانوں کو پھر سے ملانے کی بات ہی شامل ہے۔اس پالیسی کو ریاستی مفادات کی برملا توہین کہا گیا ہے جس میں بچوں کی معیاری نگہداشت اور والدین اور بچوں کے رشتوں کو قائم رکھنے کی نفی ہوتی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ پالیسی اور اس کے نفاذ کے متعلق سلوک نے ریاستوں اور اس کے باشندوں کو شدید اور فوری نقصان پہنچایا ہے۔

نیو جرسی کے اٹارنی جنرل گربیر گریوال نے ایک بیان میں کہا کہ خاندانوں کو جدا کرنے کا عمل ظالمانہ، صاف اور آسان ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انتظامیہ ہر دن نئی اور باہم متضاد پالیسی جاری کر رہی ہے اور نئی پالیسی پر متضاد جواز کے تحت بھروسہ کرتی ہے۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اصل لوگوں کی زندگی توازن میں ہوتی ہے۔نیویارک کی اٹارنی جنرل باربرا انڈروڈ کی ایک پریس ریلیز میں بچوں کے ڈپریشن، تشویش، اور خودکشی کے رجحان کے علاج کا ذکر ہے۔

انھوں نے کہا بچوں کے ان کے والدین سے سینکڑوں میل دور علاج سے ٹرمپ انتظامیہ نے پہلے ہی ان بچوں کو ناقابل بیان صدمہ پہنچایا ہے اور اس کے ساتھ ہی نیویارک میں بچوں کی صحت، حفاظت اور خوشحالی کے تحفظ کے اصولوں کو پامال کیا ہے۔ امریکی محکمہ صحت کے پناہ گزینوں کی باز آبادکاری کے دفتر او آر آر نے تصدیق کی ہے کہ ابھی بھی 2047 بچے ان کی نگرانی میں ہیں۔