شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت‘خواجہ حارث حتمی دلائل

چیئرمین نیب نے حسن نواز، حسین نواز اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو انٹر پول کے ذریعے پاکستان لانے کی منظوری دے دی

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ جون 12:48

شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت‘خواجہ حارث حتمی دلائل
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔27 جون۔2018ء) شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث حتمی دلائل دے رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیرکررہے ہیں۔مسلم لیگ( ن) کے قائد نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز آج بھی احتساب عدالت میں پیش نہ ہوئے جبکہ کیپٹن صفدر عدالت میں موجود ہیں۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے ساتویں روز بھی دلائل کا سلسلہ جاری ہے۔خواجہ حارث نے نیب کے نوازشریف کونوٹس کا متن پڑھ کرسنایا جس میں کہا گیا کہ بیان کی تصدیق کے لیے پیش ہوں اور پیش کردہ دستاویزات سے متعلق رائے دیں، جے آئی ٹی میں میرے موکل کا بیان اپنے دفاع کے لیے تھا۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ گزشتہ روز سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ واجد ضیاءکا بیان ہے لندن فلیٹس شریف خاندان کے ہیں، تفتیشی افسر کہتا ہے نواز شریف بے نامی دار اور اصل مالک ہیں۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا استغاثہ نے چارٹ پیش کرنے والے گواہ کو پیش نہیں کیا اورجن شواہد کو استعمال کرنا چاہتے ہیں ان پر جرح کا موقع ملنا چاہیئے، جے آئی ٹی نے نواز شریف سے مالک یا بینیفشل اونر کا نہیں پوچھا۔دوسری جانب ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی نے انکشاف کیا ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے حسن نواز، حسین نواز اور اسحاق ڈار کو انٹر پول کے ذریعے برطانیہ سے پاکستان لانے کی منظوری دے دی ہے۔

ذرائع کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے حسن نواز، حسین نواز اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو انٹر پول کے ذریعے برطانیہ سے پاکستان لانے کی منظوری دے دی ہے، نیب آج حسن نواز، حسین نواز اور اسحاق ڈار کو انٹر پول سے ریڈ وارنٹ جاری کرانے کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھے گی۔ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم کے دونوں بیٹوں حسن نواز، حسین نواز اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو انٹر پول کے زریعے برطانیہ سے لانے کی منظوری چیئرمین نیب نے کل بورڈز آف ڈائریکٹرز سے مشاورت کے بعد دی، وزارت داخلہ کو نیب کی طرف سے درخواست ملنے کے بعد ہی وزارت داخلہ انٹر پول کو درخواست کرے گا جس کے بعد حسن، حسین اور اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹ جاری ہوں گے۔

پاکستان میں انٹر پول کا آفس نیب کی درخواست پر ریڈ وارنٹ جاری کرے گا جو انٹر پول کے فرانس ہیڈ آفس بجھوائے جائیں گے۔واضح رہے کہ احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز پر نیب ریفرنسز کے حوالے سے مقدمات کی سماعت جاری ہے، لندن میں موجود سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز بھی ایون فیلڈ سمیت تین ریفرنسز میں شریک ملزم ہیں جبکہ اسحاق ڈار پر آمدنی سے زائد اثاثے بنانے کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔