شارجہ:رہائشی عمارت اچانک خالی کرانے پر بے سر و سامان پاکستانی سڑکوں پر رات گزارنے پر مجبور

متاثرہ افراد کو کمروں میں موجود اپنا سامان اور اہم دستاویزات لانے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ جون 13:44

شارجہ:رہائشی عمارت اچانک خالی کرانے پر بے سر و سامان پاکستانی سڑکوں ..
شارجہ ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔27جُون 2018ء) شارجہ میں موجود ایک رہائشی بلڈنگ کے نئے مالک کی جانب سے گزشتہ اتوار کے روز بلڈنگ میں موجود 400 ورکرز کو بغیر کسی پیشگی نوٹس کے کمروں سے بے دخل کر دِیا گیا۔ جس کے باعث وہ رات بے سر وسامانی کے عالم میں کھُلے آسمان تلے بِتانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق النباہا کے علاقے میں موجود بلڈنگ میں موجود رہائشیوں کو بلڈنگ کے نئے مالک نے عدالتی فیصلہ کے بعد پولیس اور انتظامیہ کی مدد سے اچانک بلڈنگ سے بے دخل کر دِیا۔

ان مجبور افراد نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ اُنہیں کمروں میں موجود اپنا سامان اور دیگر اہم دستاویزات لانے کی اجازت دی جائے۔ بے دخل کیے جانے والے افراد کا دعویٰ ہے کہ انہیں بلڈنگ خالی کرنے کے لیے کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

(جاری ہے)

اس نو منزلہ عمارت کے ہر فلور پر چار کمروں پر مشتمل دو دو اپارٹمنٹس ہیں۔ ورکرز نے الزام لگایا کہ ایک پراپرٹی ایجنٹ نے اُنہیں بغیر کسی کنٹریکٹ کے یہاں کرائے پر اپارٹمنٹس دیئے تھے مگر اس نے مالک کی تبدیلی کی اطلاع نہیں دی۔

دُوسری طرف رہائشی عمارت کے نئے مالک کا کہنا ہے کہ بلڈنگ کے پچھلے مالک نے مالی مشکلات کے باعث یہ بلڈنگ اُسے فروخت کر دی تھی۔ یہ پراپرٹی ایجنٹ کا کام تھا کہ وہ یہاں مقیم کرایہ داروں کو ملکیت کی تبدیلی کے بارے میں آگاہ کرتا۔ اُس (نئے مالک) نے خود بلڈنگ میں جا کر کرایہ داروں کو بتایا تھا کہ اب وہ اس بلڈنگ کا مالک ہے اور اُنہیں پراپرٹی ڈیلر سے ڈیل کرنے سے منع کیا تھا۔

شارجہ میونسلپٹی کے مطابق یہ بلڈنگ عدالت کے حکم پر خالی کروائی گئی ہے۔ میونسپلٹی کے مطابق اُس نے یہ بلڈنگ اچانک اور بغیر کسی وارننگ کے خالی نہیں کروائی بلکہ یہاں مقیم ورکرز کو واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ عمارت نئے مالک کے حوالے کر دی جائے گی۔ یہ وارننگ 22مئی 2018ء کو جاری کی گئی تھی اور اس حوالے سے نوٹس عمارت پر چسپاں کر دیا گیا تھا۔

میونسپلٹی نے ورکرزکو بلڈنگ خالی کرنے کے لیے ایک ہفتے کا اضافی وقت دیا تھا۔ لیکن اُنہوں نے یہاں کی رہائش نہ چھوڑی جس پر میونسپلٹی کو عدالت کے حُکم کے تحت مجبوراً بلڈنگ خالی کرانا پڑی۔ پراپرٹی ایجنٹ نے غلط طور پر ورکرز کو اس بلڈنگ میں رہائش پذیر رکھا۔ متاثرہ ورکررز کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے فی کمرہ کے حساب سے پراپرٹی ایجنٹ کو 1700سے 2500 درہم ادا کیے تھے۔

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والا یہ پراپرٹی ایجنٹ اُن سے کرایہ وصول کرنے کے بعد غائب ہو گیا ہے اور اُس کا فون بھی بند جا رہا ہے۔یہ لوگ متبادل ٹھکانہ بھی اختیار نہیں کر سکتے کیونکہ اُن کے پاسپورٹ‘ پیسے اور دُوسری اہم دستاویزات خالی کرائی گئی بلڈنگ کے اندر موجود ہیں۔ پاکستان‘ مصر اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے یہ متاثرہ افراد کنسٹرکشن انڈسٹری کے ملازم ہیں۔

ایک ملازم عدیل محمود کا کہنا تھا ’’ہم صرف اپنا سامان اور پاسپورٹ لینا چاہتے ہیں۔‘‘ ان متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ اُنہیں اپنا سامان اور دیگر دستاویزات حاصل کرنے کے لیے صرف ایک گھنٹہ کا وقت دیا جائے۔ کیونکہ اتوار کی رات سے وہ گلیوں میں سونے پر مجبور ہیں یا پھر اک مسجد کے شیڈ تلے پناہ گزین بنے بیٹھے ہیں۔ ورکرز کے مطابق اُنہوں نے ماہانہ کرایہ کی مد میں 400 درہم ادا کیے ہیں اس کے علاوہ بجلی کے بل کے لیے 100درہم جبکہ سیکیورٹی ڈیپازٹ کی غرض سے ایک ہزار اماراتی درہم کی رقم جمع کروائی ہے۔