ڈیم پاکستان کی بقاء کیلئے ضروری ہیں، قربانی دینا ہوگی ،ْچیف جسٹس ثاقب نثار

کالا باغ ڈیم کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں ہے، شمس الملک اور اعتزاز احسن کو معاونت کا کہا ہے ،ْ ریمارکس زمین بنجر ہوگی تو کسان مقروض ہو جائے گا، ہمیں ہنگامی اور جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا، تجاویز کیلئے لوگوں کو اکٹھا کریں ،ْ چیف جسٹس ڈیمز کے مخالفین سے بھی بات کرنی ہوگی، اعتراز احسن ……جو ڈیم متنازعہ نہیں ان پر فوکس پہلے کیوں نہ کریں ،ْ چیف جسٹس

بدھ جون 14:08

ڈیم پاکستان کی بقاء کیلئے ضروری ہیں، قربانی دینا ہوگی ،ْچیف جسٹس ثاقب ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے کالاباغ ڈیم سے متعلق کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ ڈیم پاکستان کی بقاء کیلئے ضروری ہیں جس کیلئے قربانی دینا ہوگی۔۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کی۔۔سماعت کے آغاز پر درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ تمام صوبوں نے کالا باغ ڈیم پر اتفاق کیا تھا ،ْاس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کالا باغ ڈیم کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں ہے، شمس الملک اور اعتزاز احسن کو معاونت کا کہا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کیا پانی کے بغیر پاکستان کی بقا ممکن ہی کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح خطر ناک حد تک گر چکی ہے ،ْپانی کے مسئلے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہی چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ بار بار کہہ رہا ہوں یہاں کالا باغ کی نہیں پاکستان ڈیم کی بات کررہا ہوں، پاکستان ڈیم نہیں بنائے گا تو 5 سال بعد پانی کی صورتحال کیا ہوگی، ڈیمز پاکستان کی بقا کیلئے نہایت ضروری ہیں، چاروں بھائیوں میں اتفاق ہونا چاہیے، ڈیمز بنانے کیلئے قربانی دینا ہوگی۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ زمین بنجر ہوگی تو کسان مقروض ہو جائے گا، ہمیں ہنگامی اور جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا، لوگوں کو اکٹھا کریں تاکہ لوگوں کی تجاویز آئیں، سب کو مل بیٹھ کر ایشو کے حل کیلئے سوچنا ہوگا۔اس موقع پر اعتزاز احسن نے دلائل دیئے کہ ڈیمز کے مخالفین سے بھی بات کرنی ہوگی، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جو ڈیم متنازعہ نہیں ان پر فوکس پہلے کیوں نہ کریں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے کچھ نہیں ہوا، سیاسی حکومتوں نے دس سال میں ڈیمز کی تعمیر کیلئے کیا کیا ڈیم تو ہر حال میں بننا ہے، یہ بتائیں ڈیمز کن جگہوں پر بنیں گے، مجھے مسئلے کا حل بتائیں، جب تک مسئلے کا حل نہیں نکلتا میں نے جانے نہیں دینا، مجھے بندے بتائیں ماہرین کے نام بتائیں، میں نے سب کو بلا کر اندر سے کنڈی لگا دینی ہے، کم از کم اس مسئلے پر گفت و شنید شروع کرنی چاہیے۔