سکندربوسن کے خلاف عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ میں دھرنے کے پیچھے کون تھا؟ اہم انکشاف سامنے آ گیا

احمد حسین ڈیہڑ ملتان سے ہر دوسرے دن تازہ دم لوگوں پر مشتمل بسیں بھر بھر کر لاتا رہا،یہ لڑائی صرف سکندر بوسن بمقابلہ احمدحسین ڈیہڑ نہیں تھی بلکہ اس کی جڑیں جہانگیر ترین بمقابلہ شاہ محمود قریشی تک پہنچی ہوئیں تھیں،معروف کالم نگار خالد مسعود خان کا کالم میں انکشاف

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ جون 13:57

سکندربوسن کے خلاف عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ میں دھرنے کے پیچھے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 27 جون 2018ء) :معروف کالم نگار خالد مسعود خان کا کالم میں انکشاف کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بنی گالا میں احتجاج کی لڑائی صرف سکندر بوسن بمقابلہ احمدحسین ڈیہڑ نہیں تھی بلکہ اس کی جڑیں جہانگیر ترین بمقابلہ شاہ محمود قریشی تک پہنچی ہوئیں تھیں۔تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف میں ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے پارٹی کارکنان نے شدید احتجاج کیا تھا۔

پارٹی کارکنان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے پارٹی کارکنان سے زیادہ الیکٹیبلز کو اہمیت دی ہے۔جب کہ پارٹی کارکنان نے پارٹی کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں اور وہ مشکل وقت میں عمران خان کے ساتھ کھڑے رہے۔اس تمام صورتحال میںپی ٹی آئی کارکنان نے بنی گالا کے باہر احتجاج کیا تھا۔اسی متعلق گفتگو کرتے ہوئے معروف کالم نگار خالد مسعود خان کا اپنے ایک کالم " جاوید ہاشمی کی انتخابی سیاست سے رخصتی" میں کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اپنے کارکنان کو دھرنوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں سکھایا۔

(جاری ہے)

نہ تو خود تحمل کی سیاست کی اور نہ ہی کارکنان کو کرنے دی۔بنی گالا کے دھرنے میں بنیادی طور پر سارے دھرنے بازروں کا تعلق ملتان کے حلقہ این سے 154 سے ہی تھی۔اسے احمد حسین ڈیہڑ ملتان سے بسوں میں بھرکر لے آیا تھا۔بلکہ اس دوران ہر دوسرے دن ایک بس تازہ دم دھرنے بازوں کی اسلام آباد بھی پہنچاتا رہا۔یہ ساری لڑائی صرف سکندر بوسن بمقابلہ احمدحسین ڈیہڑ نہیں تھی بلکہ اس کی جڑیں جہانگیر ترین بمقابلہ شاہ محمود قریشی تک پہنچی ہوئیں تھیں۔سکندر بوسن کوٹکٹ دلوانے کے لیے جہانگیر ترین اینڈ کمنپی زور لگا رہی ہے جب کہ احمد حسہن ڈیہڑ کے پیچھے شاہ محمود قریشی ہے۔یہ ساری زور آزامائی دراصل اوپر والے لیول پر ہو رہی ہے۔اور اس میں کارکنان کو استعمال کیا گیا۔