مسلم لیگ ن کے غلط فیصلوں کی وجہ سے این اے 132 اور 134 میں شکست یقینی ہو گئی

شہباز شریف کو سب اچھا کی رپورٹ دے کر پی ٹی آئی کو فائدہ پہنچانے کی کوششیں

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ جون 13:58

مسلم لیگ ن کے غلط فیصلوں کی وجہ سے این اے 132 اور 134 میں شکست یقینی ہو گئی
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 27 جون 2018ء) : عام انتخابات 2018ء سے قبل ہی مسلم لیگ ن اپنے غلط فیصلوں کا شکار ہو گئی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے غلط فیصلوں کی وجہ سے این اے 132 اور این اے 134 میں شکست یقینی ہو گئی ہے ، یہی نہیں بلکہ پارٹی صدر شہباز شریف کو سب اچھا کی رپورٹ دے کر سیاسی حریف پاکستان تحریک انصاف کو فائدہ پہنچانے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مسلم لیگ ن کے غلط فیصلے کئی سیٹوں پر اثر انداز ہوں گے اور مسلم لیگ ن اپنے غلط فیصلوں کی وجہ سے ہی کئی سیٹیں ہار جائے گی۔ مسلم لیگ ن کے طلحہ برکی نے پارٹی صدر شہباز شریف کو سب اچھا کی رپورٹ دے کر پاکستان تحریک انصاف کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ مسلم لیگ ن کو پی پی 164، پی پی 169 اور این اے 134 کی سیٹوں پر واضح شکست نظر آنے لگی ہے، مسلم لیگ ن نے حبیب اعوان کو ٹکٹ نہ دے کر پارٹی کو شکست کے دھارے میں ڈال دیا ہے۔

(جاری ہے)

کیونکہ اس سے قبل ان علاقوں سے ملک حبیب اعوان رکن صوبائی اسمبلی رہے ہیں، لیکن اب اس حلقے سے شہباز شریف الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، اسی طرح پارٹی صدر میاں شہباز شریف پی پی 165 سے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں جس پر حلقہ میں موجود مسلم لیگ ن کے کارکنان کافی ناراض ہیں اور اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں کیونکہ گذشتہ پانچ سالوں میں شہباز شریف تو دور حمزہ شہباز نے بھی کارکنوں سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی ان کے مسائل حل کیے۔

یہی وجہ ہے کہ اس حلقے میں تاحال شہباز شریف کی انتخابی مہم کا آغاز نہیں کیا جا سکا۔اسی طرح مسلم لیگ ن نے پُرانے ٹکٹ ہولڈر رانا اقبال، خالد قادری اور پُرانے کارکن اختر شاہ اور شرافت لیاقت بھٹی کو نظر انداز کر کے کسی اور کو ٹکٹ دی، تو پھر اس حلقہ میں بھی ن لیگ کی شکست کو یقینی قرار دیا جا رہا ہے۔۔مسلم لیگ ن کے غلط فیصلوں کا اثر رانا مبشر اقبال کے حلقے پر بھی ہوگا۔

کیونکہ اس حلقے میں راجپوت برادری کافی اثرو رسوخ رکھتی ہے، مسلملیگ ن کے ذرائع کے مطابق طلحہ برکی پر شہباز شریف کو حلقہ کی غلط رپورٹنگ، کارکنوں کو اہمیت نہ دینے اور ٹکٹ دلوانے کے لیے پیسے لینے کے الزامات ہیں۔اہل علاقہ اور مسلم لیگ ن کے ووٹرز نے پارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ ہر حلقے میں زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے حلقہ کے اُمیدوار کو ٹکٹ دیں نہ کہ کسی باہر کے آدمی کو ٹکٹ دے کر پاکستان تحریک انصاف کے اُمیدوار کو کامیاب کروایا جائے۔ کیونکہ مسلم لیگ ن کا ایک غلط فیصلہ کئی سیٹوں پر اثر انداز ہو گا جس کی وجہ سے مسلم لیگ ن الیکشن میں کئی سیٹیں ہار جائے گی۔