جاپان کا خلائی جہاز چار سال کے سفر کے بعد کائناتی ہیرا نامی شہابیے کے پاس پہنچ گیا

بدھ جون 14:11

ٹوکیو۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) جاپان کا خلائی جہاز چار سال کے سفر کے بعد کائناتی ہیرا نامی شہابیے کے پاس پہنچ گیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہایا بوزا۔ ٹو نامی یہ خلائی جہاز ریوگو نامی شہابیے سے نمونے حاصل کرکے 2020 ء میں واپس زمین پر پہنچے گا۔زمین سے 29 کروڑ کلو میٹر کے فاصلے پر موجود 900 میٹر چوڑے شہابیے ریوگو کی سطح کے نیچے سے چٹانوںکے نمونے حاصل کرنے کے لئے خلائی جہاز سے متعدد آلات ریوگو کی سطح پر اتارے جائیں گے۔

ہایا بوزا۔ ٹو کے مشن منیجر ڈاکٹر ماکوٹو کے مطابق خلائی جہاز ریوگو کے گرد چکر لگاتے ہوئے اس کی سطح کا جائزہ لے گا اور اس دوران نمونے حاصل کرنے کے لئے موزوں ترین مقام کا تعین کیا جائے گا۔مشن کا یہ ہدف آئندہ سال موسم بہار تک حاصل کیا جا سکے گا۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر ماکوٹو کے مطابق ان نمونوں کے مطالعے سے کائنات اور کہکشائوں اور ہمارے نظام شمسی کے وجود میںآنے سے متعلق اہم معلومات حاصل ہو سکیں گی۔

ان نمونوں کے مطالعے سے زمیں پر زندگی کے آغاز سے متعلق معلومات حاصل ہونے کا بھی امکان ہے۔ جاپانی ماہرین کے مطابق یہ شہابیہ اپنے محور کے گرد ایک چکر ساڑے سات گھنٹے میں مکمل کرتا ہے۔ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس شہابیے کی محوری گردش کی رفتار پہلے اس سے تیز تھی جو کسی نامعلوم وجہ سے سست ہو گئی ہے۔خلائی جہاز ہایا بوزا۔ ٹو دسمبر 2019 میں واپسی کا سفر شروع کرے گا۔

متعلقہ عنوان :