باہمی رابطوں کے فروغ سے پاکستان، چین اورجنوب اشیاء کے دیگر ممالک کاروبار، روزگار اور معاشی ترقی کے مواقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھاسکتے ہیں

چینی سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن لیجن ژاو کا پاک انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے زیر اہتمام دو روزہ کانفرنس سے خطاب

بدھ جون 14:40

․ اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) پاکستان میں چینی سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن لیجن ژاو نے کہا ہے کہ باہمی رابطوں کے فروغ سے پاکستان ،عوامی جمہوریہ چین اورجنوب اشیاء کے دیگر ممالک کاروبار ، روزگار ، تعلیم و تربیت سماجی و معاشی ترقی کے مواقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھاسکتے ہیں جس سے جنوب اشیاء میں پائیدار امن، ترقی ، استحکام اور سلامتی کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل کے حل اور معاشی ترقی کے مقاصد حاصل ہوں گے ۔

انہوں نے یہ بات پاک انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے زیر اہتمام جنوب اشیاء میں باہمی رابطے اور علاقائی معیشت کے عنوان سے دو روزہ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ کانفرنس میں پاکستان کے علاوہ عوامی جمہوریہ چین،، بھارت ، نیپال ، سر ی لنکا ، افغانستان کے ماہرین ، سفارت کار ، ماہرین اور مقتدرتعلیمی و تحقیقی اداروں ، سول سوسائٹی کے سربراہان اور نمائندوں کے علاوہ طلباء و طالبات اور مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

لیجن ژاو نے کہا کہ عوامی جمہوریہ چین جنوب اشیاء میں امن اور ترقی کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے اور پاک چین اقتصادی راہداری کا عظیم منصوبہ علاقائی تعاون اور جنوب اشیاء کے ممالک کی ترقی کیلئے ٹھوس بنیادفراہم کرے گا اور خطے کے ممالک اس منصوبے سے خاطر خواہ معاشی فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چین اور جنوب اشیاء کے ممالک کے تعاون سے ہر شعبہ زندگی میں ترقی کے بہترین نتائج حاصل ہوسکتے ہیں اور ان مقاصد کے حصول کے لئے ہر سطح پر باہمی تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے اور پاک انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیزکے زیر اہتمام دو روزہ کانفرنس کا انعقاد خصوصی اہمیت کا حامل ہے جس میں جنوب اشیاء کے ممالک کو ایک پلیٹ فارم میسر آیا ہے جس میں وہ ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہو سکتے ہیں اور علاقائی ترقی اور تعاون میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

قبل ازیں عامر الیاس رانا نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنوب اشیاء میں سماجی و معاشی ترقی کی راہ ہموار کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے تما م اسٹیک ہولڈرز کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ بھارت میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عزیز احمد خان، سدہندراہ کلکرنی، ڈاکٹر وانگ ژو، ایگزیکٹو ڈائریکٹر کھٹمندڈو سکول آف لاء نیپال ڈاکٹر یوباراج سنگوولا،،ڈاکٹر خالدہ ، انعام الحق، تاج حیدر، افرسیاب خٹک ، ڈاکٹر فضل الرحمن ، بیرسٹر شہزاد اکبر، شہزادہ ذولفقار، محمد زبیر موتی ولا، رحیم اللہ یوسفزائی ، محمد عامر رانا، بسم اللہ علی زادہ اور دیگر مقررین نے اظہار خیال کیا اور موضوع کے حوالے سے قابل عمل سفارشات پیش کیں۔