بھارتی فورسز جنوبی کشمیر میں نسل کشی میں مصروف عمل ہیں، قاضی یاسر

کشمیری نوجوان حصول حق خودارادیت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں، مختار وازہ

بدھ جون 15:00

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میں معروف عالم دین اور امت اسلامی کے چیئرمین قاضی یاسر نے علاقے میں بھارتی فورسز کی طرف سے جاری قتل و غارت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فورسز جنوبی کشمیر میں نسل کشی میں مصروف ہیں ۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق قاضی یاسر نظربندی سے رہائی کے فوراً بعد بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے نوجوان شکور احمد ڈارکو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اس کے گھر گئے ۔

انہوں نے شوپیاں کے علاقے سوپٹ میں ایک ریلی کی بھی قیادت کی۔بعد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت امت اسلامی کی آواز کو دبانے کی ہرممکن کوشش کررہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ قابض انتظامیہ نے ہمارے کارکنوں میں خوف و دہشت پھیلاکر ہمارے خلاف نفسیاتی ، جسمانی اورسیاسی جنگ چھیڑ رکھی ہے، جنوبی کشمیر میں کربلا جیسی صورتحال پیدا کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ شہید نوجوان شکور احمد ڈار کے دو بھائی جیل میں بند ہیں جن میں سے ایک کینسر میں مبتلا ہے۔ قاضی یاسر نے شبیر احمد شاہ، تحریک حریت کے رہنما میر حفیظ اللہ اورسرجان برکاتی کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ میر حفیظ اللہ کے اہل خانہ کو ان کی سخت ضرورت ہے کیونکہ وہ اپنے کنبے کا واحد کفیل ہے۔ انہوںنے کہا کہ ان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زوردیا کہ وہ قتل و غارت ، گولیوں اور پیلٹ کی ظالمانہ پالیسی ترک کرے کیونکہ اس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ۔ قاضی یاسر نے کہا کہ بیس سال کا ایک زخمی نوجوان شہید شکور احمد ڈار کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے 100کلومیٹر کا سفر طے کرکے آتا ہے جوبھارت کے لیے سبق آموز ہونا چاہے اور اگر وہ اس سے سبق حا صل نہیں کرتا تو یہ اس کی بدقسمتی ہوگی۔

دریں اثناء جموں وکشمیر پیپلز لیگ کے چیئرمین مختار احمدوازہ بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے نوجوان یاوراحمد کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کے لیے ضلع کولگام کے علاقے گوسی پورہ میں اس کے گھر گئے۔ انہوںنے اس موقع پر کہا کہ کشمیری نوجوان حصول حق خودارادیت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔