ٹرمپ یک طرفہ پالیسیاں " ظالمانہ" ہیں، سابق ایرانی صدر کی تنقید

ٹرمپ انتظامیہ کی پابندیاں ایران کو غیر انسانی دبائو میں لانے کے علاوہ کچھ نہیں، یہ اقدام علاقائی سلامتی میں مداخلت کے مترادف ہیں، امریکہ کی تخریبی پالیسی انسانی و اقتصادی نقصان کا سبب ہے، احمدی نژاد

بدھ جون 15:00

․تہران(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے امریکہ پر تنقید کے تیر برساتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ یک طرفہ پالیسیاں " ظالمانہ" ہیں، ٹرمپ انتظامیہ کی پابندیاں ایران کو غیر انسانی دبائو میں لانے کے علاوہ کچھ نہیں، یہ اقدام علاقائی سلامتی میں مداخلت کے مترادف ہیں، امریکہ کی تخریبی پالیسی انسانی و اقتصادی نقصان کا سبب ہے۔

بین الاقوامی ذرائع کے مطابق ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کے خلاف یک طرفہ پالیسیاں " ظالمانہ" ہیں۔احمد نژاد نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے رقم کردہ مراسلے میں امریکہ کی ایران پر عائد کردہ یک طرفہ پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔مراسلے میں ٹرمپ کی ایران پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی لاگو کردہ پابندیاں ایرانی عوام کو غیر انسانی دباو میں لانے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہیں۔

(جاری ہے)

امریکی انتظامیہ کے مشرق وسطی کے ممالک کے ہاتھ اسلحہ فروخت کرنے پر بھی تنقید کرتے ہوئے احمدی نژاد نے کہا ہے کہ یہ اقدام علاقائی سلامتی میں مداخلت کی حیثیت رکھتا ہے۔مراسلے میں احمدی نژاد نے مزید کہا ہے کہ حالیہ 40 سالوں میں امریکہ کی حکومتوں نے ایران کے بارے میں پالیسیاں اپنے تخریبی نقطہ نظر کے مطابق بنائی ہیں اور یہ چیز دونوں ملکوں کے انسانی و اقتصادی نقصان کا سبب بنی ہے۔صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ آپ کی حکومت بھی اسی مخاصمانہ اور ناقابل توضیح رویے کو اختیار کئے ہوئے ہے لیکن یہ رویہ ایرانی عوام کی مزاحمت، امریکہ کے لئے نفرت اور دونوں ملکوں کے درمیان مسافت میں اضافے کے علاوہ اور کسی کام نہیں آئے گا۔