سابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو حلقے میں جانے پر شرمندگی کا سامنا

آپ نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا۔ حلقے کی عوام کا مراد علی شاہ سے شکوہ

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ جون 15:15

سابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو حلقے میں جانے پر شرمندگی کا سامنا
کراچی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 27 جون 2018ء) : عام انتخابات 2018ء کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کی تیاریاں عروج پر ہیں اور اپنے اپنے حلقے سے جیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام انتخابی اُمیدواروں نے متعلقہ حلقوں کا رُخ کر لیا ہے ۔ 5 سال حلقے کی عوام کی شکل تک نہ دیکھنے والے انتخابی اُمیدواروں کو حلقوں کے دوروں پر سخت تنقید اور بے عزتی کا سامنا ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو بھی آج حلقے میں جانے پر اُس وقت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب ووٹرز نے ان سے کہا کہ آپ نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا۔ جس کے بعد سابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو ووٹرز سے اپنی جان چھڑوانا مشکل ہو گیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سیہون کےحلقہ پی ایس 80 میں سابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو انتخابی مہم کے دوران ان کی رہائش گاہ واہڑ سے نکلتے ہی ان کے ووٹرز نے آ گھیرا اور یک ووٹر نے اس موقع پر مراد علی شاہ سے شکوہ کیا کہ ’’میرے والد پیپلز پارٹی کے کارکن ہیں مگر آپ نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا‘‘۔

(جاری ہے)

ووٹر کے سوال پر مراد علی شاہ نے پہلے تو اسے دلاسہ دے کر خاموش کروانے کی کوشش کی لیکن ووٹر کے بارہا اصرار پر سابق وزیراعلیٰ سندھ نے ناراضگی سے کہا کہ ’’مجھے بھی سنو گے یا نہیں؟‘‘ ووٹر کے نہ ماننے پر مراد علی شاہ وہاں سے چل دیئے۔ اس موقع پر ایک شخص اس تمام واقعے کی ویڈیو بنارہا تھا جسے سابق وزیراعلیٰ سندھ نے ویڈیو بنانے سے بھی منع کیا اور اس کے نہ ماننے پر کیمرے پر ہاتھ دے مارا۔

واضح رہے کہ انتخابات 2018ء کے سلسلے میں مختلف ساسی و مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اور آزاد اُمیدوار بھی اپنے حلقہ انتخاب میں الیکشن مہم چلاتے اور دورے کرتے نظر آرہے ہیں تاکہ حلقے کی عوام کا اعتماد حاصل کر کے الیکشن میں اپنی جیت کو یقینی بنا سکیں۔ قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئیر رہنما خورشید پنو عاقل میں عوام سے خطاب کر رہے تھے جب ایک نوجوان نے خورشید شاہ کے خطاب کے دوران سوالات کی بوچھاڑ کر دی اور کہا کہ آپ دس سال حکومت میں رہے لیکن ہمارے علاقے میں نہ پانی ہے اور نہ ہی کوئی سڑک بنی ہو ئی ہے۔

خورشید شاہ نے نوجوان کی بات کا مُسکراتے ہوئے جواب دیا اور کہا کہ اب یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر لگادینا۔ کیونکہ اس سے پہلے کئی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جب سیاسی رہنما اپنے حلقوں میں ووٹ مانگنے گئے تو ان کو شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اور لوگوں نے انہیں گھیر کر پانچ سال کی کاردگردگی سے متعلق سوالات پوچھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ سابق وزیر اعظم شاید خاقان عباسی کو بھی کہوٹہ میں لوگوں نےآ گھیرا تھا اور5 سال کی کارکردگی سے متعلق سوالات کیے تھے۔ پی ٹی آئی رہنما سکندر بوسن کو بھی ملتان میں ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔