گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی پہلی قسط جمع کرانے کی مہلت ختم

ْگیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس ترمیمی ایکٹ 2018 ، جنوری2012ء سے مئی 2015ء تک کے واجبات کی چھوٹ

بدھ جون 15:20

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) سی این جی سٹیشنز پر گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس ترمیمی ایکٹ 2018کے اطلاق کے بعد راولپنڈی کے تمام موجودہ و سابقہ سی این جی مالکان کو ایس این جی پی ایل ریجنل آفس سے فوری رابطہ کی ہدایت کر دی گئی ۔سوئی ناردرن گیس کے ذرائع نے اے پی پی کو بتایاکہ یکم جون 2018ء سے سی این جی سٹیشنز پر گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس ترمیمی ایکٹ 2018کا نفاذ کیا جاچکا ہے ۔

جس کی رو سے جنوری2012سے مئی 2015تک کے واجبات کے چھوٹ کی شق منظور کی گئی ہے ۔ذرائع نے قومی خبر ایجنسی کو بتایاکہ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے واجبات کی ادائیگی میں چھوٹ کے حصول کے لیے سی این جی مالکان کا سوئی ناردرن گیس کے ساتھ 30یوم کے اندر معاہدہ اور (آج) جمعرات تک ادائیگی کی پہلی قسط جمع کروانا ضروری ہے بصورت دیگر چھوٹ سے استفادہ نہیں کیا جا سکے گا اور گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے تمام واجبات مار ک اپ سمیت وصول کیے جائیں گے ۔

(جاری ہے)

ایس این جی پی ایل ریجنل آفس راولپنڈی کے جنرل مینجر محمد ظہور نے اے پی پی کو بتایاکہ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس ترمیمی ایکٹ 2018 کا وفاق کی جانب سے یکم جون 2018کو نفاذ کیا گیا جس کے بعدسوئی ناردرن گیس پائپ لائنز نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے تمام موجودہ و سابقہ سی این جی مالکان کو ریجنل دفاتر سے رابطہ کر کے چھوٹ سے استفادہ کی ہدایت کی ہے ۔اس ضمن میں ایس این جی پی ایل ریجنل آفس راولپنڈی کی حدود میں واقع سی این جی اسٹیشنز مالکان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس ترمیمی ایکٹ 2018 کے تحت دی گئی چھوٹ سے فائدہ اٹھانے کے لیے بروقت رابطہ کریں اور قانونی تقاضے پورے کر یں ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

متعلقہ عنوان :