سعودی عرب:باپ کو زندہ جلانے والے شخص کو سزائے موت دے دی گئی

شیطان صفت آدمی نے باپ کو نیند کے دوران موت کے گھاٹ اُتارا

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ جون 15:35

ریاض( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔27جُون 2018ء) سوتے ہوئے باپ کو زندہ جلانے کی گھناؤنی حرکت کا ارتکاب کرنے والے سعودی شہری کو سزائے موت دے دی گئی۔ سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے پریس بیان میں کیا گیا ہے کہ باپ کو زندہ جلانے والے شخص کو سزائے موت دے دی گئی۔اس پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ ’’عبداللہ بن مبارک بن مناہی البروق البِشی‘ سعودی شہریت کا حامل ہے‘ جس نے ایک روز گھر پر سوئے اپنے باپ کے اُوپر گیسولین چھڑک کر آگ لگا دی جس کے باعث وہ زندہ جل کر جاں بحق ہو گیا۔

پولیس نے شک پڑنے پر ملزم کو گرفتار کیا تھا جس نے دورانِ تفتیش اسی شیطانی حرکت کے مُرتکب ہونے کا اعتراف کر لیا تھا۔ ملزم کو عدالت نے اس سفاکی بھرے جُرم پر سزائے موت دی تھی۔

(جاری ہے)

جس کے بعد ملزم کا مقدمہ سپریم کورٹ میں پیش ہوا۔ جہاں جج نے ذیلی عدالت کی جانب سے سُنائی گئی سزا کو برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا تھا۔ جس کے بعد ملزم کی سزائے موت یقینی ہو گئی تھی۔

اس کے بعد ایک شاہی فرمان جاری ہوا جس میں مجرم کو سزائے موت دینے کا حتمی حکمنامہ جاری کر دیا گیا۔ سرکاری ترجمان کا کہنا تھا کہ مجرم کو اس کے شرمناک عمل پر سزا دے کر لوگوں کے لیے عبرت کا سامان پیدا کیا گیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل مجرم عبداللہ بن مبارک بن مناہی کے اس شیطانی عمل کو سوشل میڈیا کے صارفین نے بہت زیادہ تنقید اور مذمت کا نشانہ بنایا تھا۔

لوگوں کا مطالبہ تھا کہ اس بھیانک واردات کو انجام دینے والے ناخلف بیٹے کو ایسی سزا دی جائے کہ جو دُنیا کے لیے ایک مثال بن جائے۔ مجرم اپنے انجام کو تو پہنچ گیا مگر وہ وجوہات سامنے نہیں آ سکیں جن کی بناء پر مجرم اس خوفناک عمل کی انجام دہی پر مجبور ہوا اور اسے بوڑھے باپ کو انتہائی درجہ کی سفاکی اور بدن سوزی کا نشانہ بنانے سے پہلے ذرا بھی خیال نہ آیا۔