اعلیٰ عدلیہ نے ہمیشہ انصاف فراہم کیا اور اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرریاں قانون اور شفاف طریقے سے عمل میں لائی جاتی ہیں‘محمد شفیع ایڈووکیٹ

بدھ جون 15:56

ہٹیاں بالا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) سابق صدر جہلم ویلی بار ایسو سی ایشن اور سابق ممبر آزاد جموں و کشمیر بار کونسل محمد شفیع ایڈووکیٹ نے صحافیوں سے بات چیت کر تے ہوئے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ نے ہمیشہ انصاف فراہم کیا اور اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرریاں قانون اور شفاف طریقے سے عمل میں لائی جاتی ہیںجو شفافیت کے مسلمہ اصولوں کے مطابق ہیں۔

اللہ کے حکم کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا۔ اللہ جسے چاہے عزت دیتا ہے۔ حالات کچھ بھی کیوںنہ ہوں اللہ کے حکم سے ہی یہ عہدے اور عزت ملتی ہے۔ جو تقرریاں عمل میں لائی گئی ہیں یقیناًً وہ اس کے اہل ہیںآزاد کشمیر کی اعلیٰ عدلیہ نے مشکل ترین دور میں بھی انصاف فراہم کر کے مثال قائم کی ہے۔ چیف جسٹس آذاد کشمیر کے بارے میں بیان بازی کوئی اچھا شگون نہ ہے۔

(جاری ہے)

قوم کی نظریں قومی رہنمائوں پر ضرور لگی ہوئی ہے۔ لیکن عدلیہ کے بارے میں بیان بازی سے قومی رہنمائوں کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہو رہا ہے۔جس کو ہر صورت میں ختم ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس آزاد کشمیر اور ججز صاحبان اعلیٰ عدلیہ کے بارے میں عوام کو بخوبی علم ہے کہ وہ نہ صرف میرٹ پر فیصلے کرتے ہیںبلکہ بر وقت انصاف فراہم کرنے میں ان کا اہم رول ہے۔

جو آن ریکارڈ ہے۔ یہ ہم سب کے لیے فخر کی بات ہے۔ چیف جسٹس آزاد کشمیر اور ان کے رفقاء کار ججز صاحبان لائق تحسین ہیں ۔ جو عوام کو انصاف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔جس سے عوام بخوبی واقف ہیں۔سردار محمد ابراہیم خان سردار محمد عبدالقیوم خان اور کے۔ایچ خورشید جیسے رہنمائوں نے اعلیٰ عدلیہ کے معیار کو نہ صرف سراہا بلکہ سردار محمد ابراہیم خان اپنے ذاتی کیس میںخود دلائل دیئے اور کے۔

ایچ خورشید بذات ہی اعلیٰ عدلیہ میں پیش ہوئے۔ جو کہ اعلیٰ پائے کے قانون دان اور قومی رہنما تھے۔ جبکہ سردار محمد عبدالقیوم خان کو جہاں دیگر زبانوں پر عبور حاصل تھا ۔ پاکستان کے مروجہ قانون کا بھی گہرا مطالعہ کرتے تھے۔اور عبور بھی حاصل تھا۔ نے کبھی اعلیٰ عدلیہ پر انگلی نہ اٹھائی۔ اعلیٰ عدلیہ کے موجودہ ججز صاحبان نہ صرف اعلیٰ پائے کے ہیں ۔

بلکہ انصاف فراہم کرنے کے لیے ہمیشہ میرٹ کو مد نظر رکھا ۔ جس کا منہ بولتا ثبوت ان کے فیصلے ہیں۔ بیرونی طاقتیں عدلیہ اور افواج پاکستان پر ہر وقت BBCوغیرہ کے ذریعہ پرپگنڈہ کر رہی ہیں تا کہ پاکستان ترقی کی منازل طے نہ کر سکے۔اب کی بارقوم کی نظریں عدلیہ اور افواج پاکستان پر لگی ہوئی ہیں اور یہ بات بیرونی طاقتوں کو پسند نہیں ہے۔ اگر ہمارے اپنے رہنما بھی BBC کی زبان بولنا شروع کر دیں ۔

تو یہ ایک افسوس ناک اور درد ناک عمل ہو گا۔ عوام کو یہ بات پسند نہ ہے۔ طاقتور ملک کے لیے طاقت ور عدلیہ کاہونا لازمی عنصر ہے۔ اگر کسی کو شکوہ ہو تو وہ قانونی راستہ اختیار کرے قانون اپنا راستہ خود تلاش کرتا ہے۔ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔سردار خالد ابراہیم کو جہاں عوام چاہتے ہیں وہاں اعلیٰ عدلیہ کے ججز صاحبان پر بھی عوام کو ناز اور فخر کر ہے۔جو شخص عہدہ طلب کرے تو اسے عہدے سے دور کر دیا جاتا ہے۔ یہ شریعت کا ایک مسلمہ اصول ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ نے جیل جانا قبول کر لیا لیکن عہدہ قبول نہیں کیا۔ اس لیے ان عہدوں کے لیے کوشش کرنا کوئی اچھا شگون نہ ہے چھوڑ دینا چاہیے۔