تیرھویں ترامیم نے آزادکشمیر کو آئینی آزادی سے نکل کر انتظامی شکنجے میں جھکڑدیا ہے،نواز لیگ کی حالیہ ترامیم نے آزادکشمیر کو پچاس سال پچھلے دھکیل دیا ہے۔آئینی اصلاحات کے نام پر آزادکشمیر کے عوام کے ساتھ بدترین دھوکہ دہی اور فراڈ کیا گیا ہے سیاسی اور آئینی ماہرین کے ترھویں ترامیم پر بیانات مسلم کانفرنس کے موقف کی تائیداور تصدیق ہے

آل جموںوکشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان کی میڈیا سے بات چیت

بدھ جون 16:06

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) آل جموںوکشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ تیرھویں ترامیم نے آزادکشمیر کو آئینی آزادی سے نکل کر انتظامی شکنجے میں جھکڑدیا ہے،،نواز لیگ کی حالیہ ترامیم نے آزادکشمیر کو پچاس سال پچھلے دھکیل دیا ہے۔آئینی اصلاحات کے نام پر آزادکشمیر کے عوام کے ساتھ بدترین دھوکہ دہی اور فراڈ کیا گیا ہے سیاسی اور آئینی ماہرین کے ترھویں ترامیم پر بیانات مسلم کانفرنس کے موقف کی تائیداور تصدیق ہے ۔

آئینی اصلاحات کیلئے پیپلزپارٹی دور کا متفقہ اور قابل قبول مسودہ موجود ہے حالیہ ترامیم میں نہ صرف کشمیری عوام بلکہ خودحکومت پاکستان کو بھی بے اج جلد بازی کے باعث اپنی آئینی اور سیاسی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا موقع نہیں ملا موجودہ ترامیم نواز جندال سفارتکاری کا تسلسل ہے ۔

(جاری ہے)

کشمیر کونسل کونسل کے تحت آزادکشمیر حکومت کو پہلے سے حاصل شدہ داخلی خودمختاری کو سنگین نقصان پہنچایا گیا ہے ،آئینی ادارہ جات کو ساری جمہوری تاریخ میں کبھی انتظامیہ کے سپرد نہیں کیا گیا ،انہوں نے ان خیالات کا اظہار آج یہاں دورہ مظفرآباد کے دوران اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر ممبر اسمبلی سردار محمد صغیر خان ،سابق وزراء پیر سید غلام مرتضیٰ گیلانی ،دیوان علی خان چغتائی ،راجہ ثاقب مجید ،میر عتیق الرحمان ،عنصر پیرزادہ ،سید اظہر گیلانی اور خواجہ محمد شفیق کے علاوہ مظفرآباد ڈویژن مسلم کانفرنسی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد موجودتھی صدر مسلم کانفرنس نے کہا کہ ایکٹ 1974اور1979میں کی جانے والی تمام ترامیم ساری قوم کیلئے ناقابل قبول رہی ہیں مسلم کانفرنس ہمیشہ سے کشمیرکونسل کیلئے بجے انتظامی اور مالی اختیارات ختم یا محدود کرنے کے حق میں رہی ہے ۔

تاہم کشمیر کونسل کی آئینی حیثیت مظفرآباد اور اسلام آباد کے درمیان باوقار تعلقات کی بہتر ضامن تھی کشمیرکونسل کی موجودگی میں آزاد حکومت اور حکومت پاکستان کے تمام اداروں کے درمیان باوقار تعلقات کار اور باہمی تعاون پوری طرح موجود رہا ہے ۔کشمیرکونسل کی موجودگی میں کئی مرکزی ادارہ جات آزادکشمیر حکومت سے کشمیر کونسل کے ذریعے اپنے معاملات سیاسی افہام توفہیم سے باآسانی حل کرتے تھے جلد بازی افراتفری بدنیتی سے کی گئی اس ترامیم کے بعد 52سبجکٹس کے بجائے 54سبجکٹس حکومت پاکستان کے پاس چلے گئے ہیں جس سے نہ صرف انتظامی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ آگے چل کر یہ انتظامی مشکلات خدا نخواستہ اداروں کے ساتھ تصادم کی صورت اختیار کر سکتی ہے ویسے بھی پاکستان میں اداروں کا باہمی تصادم کروانا سیاسی اور انتظامی افراتفری پیدا کرنا گزشتہ کئی سالوں سے نوازشریف اور نواز شریف کے پروگرام کا حصہ رہی آزادکشمیر میں زلزلہ کے متاثرین منگلا ڈیم کے متاثرین اور ہندوستانی فوج کی فائرنگ سے متاثر ہونے والی سول آبادی کے مسائل حل کرنے کے بجائے ایک نئی افراتفری اورانتظامی ہنگامہ آرائی کا آغاز کر دیا گیا تحریک آزادی کا بیس کیمپ آزادکشمیر ایسی سیاسی اٹھکیھیلیوں کا کا متحمل نہیں ہوسکتا ترھویں ترامیم کی سیاہی ابھی خشک نہیںہوئی اور مظفرآباد اور اسلام آباد کے سرکاری نمائندگان کی بیان بازی شروع ہوگی ہے آزادکشمیر کی ساری معروف سیاسی قیادت عدلیہ سے وابستہ ریاست کے معروف سابق جج صاحبان اور ماہرین آئین وقانون نے بالا اتفاق ترھویں ترامیم کو مسترد کردیا ہے حالیہ ترامیم پہلے کشمیر کونسل کی تحریری اجازت کے بغیر بلایا جانے والی 27مئی کے پہلے اجلاس سے لیکر 31مئی کے مرکزی کابینہ کے نام پر چند حکومتی وزراء کی طرف سے کیے جانے والے تمام فیصلے آئین اور قانون نظر میں مشکوک ہیں آزادکشمیر سپریم کورٹ مرپور جبیر ہوٹل کیس میں حکومت پاکستان کے مرکزی ادارے کو آزادکشمیر میں ریاستی رسائل دینے کے معاملے میں واضح اور دوٹوک فیصلہ دے چکی ہوئی ہے نواز لیگ ن نے پاکستان میں جس بدنظمی اور افراتفریح کو پیدا کیا رکھا جاتے جاتے آزادکشمیر کوبھی اس کا حصہ دے گے ۔

نواز لیگ آزادکشمیر کو اگر آئینی اصلاحات سے کوئی دلچپسی ہوتی تو ان کے پاس دو سال سے زائد عرصہ کا وقت موجود تھا یہ لوگ پاکستان میں نوازلیگ کے آخری دن کا انتظار کیے بغیر اصلاح واحوال کرسکتے تھے آئینی اداروں کی پامالی مسلم کانفرنس کے لیے ناقابل ہے صر ف مسلم کانفرنس ہی ہیں بلکہ پیپلزپارٹی پاکستان تحریک انصاف جموںوکشمیر پیپلزپارٹی اور آئین وقانونی ماہرین کی بڑی تعداد ترامیم کو خطرے اور تشویش کا باعث سمجھتی ہے نوازلیگ نے آئینی ترامیم کے نام پر آزادکشمیر کو صوبہ بنانے کی کوشش کا آغاز کیا ہے آئینی ترامیم کی آڑ میں تقسیم کشمیر اور تحریک آزادی سے دستبرداری کی سازش کار فرما ترھویں ترامیم کے نام پر آزادکشمیر کی عوام سے چھینے جانے والے آئین اور سیاسی حقوق کی واپسی اور بحالی تک مسلم کانفرنس آئینی وقانونی سیاسی وعوامی اور ہر محاذ پر کوشش جاری رکھے گی۔