گورنر راج کے نفاذ سے مقبوضہ کشمیر میں مظالم میں مزید اضافہ ہو گا ‘

یہ بھی پتا چلا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جو بھارت نواز لوگ اور جماعتیں ہیں ‘انھوں نے بھی بی جے پی کے ساتھ حکومت میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے‘ اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم پر اقوام متحدہ کی کمیشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ آنے کے بعد دنیا کی انکھیں کھل گئی ہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی کر رہا ہے ‘اس سے بھارت کا اصل چہرہ مزید بے نقاب ہو رہا ہے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود سے گفتگو

بدھ جون 16:29

گورنر راج کے نفاذ سے مقبوضہ کشمیر میں مظالم میں مزید اضافہ ہو گا ‘
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج کے نفاذ اور انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئے خلاف ورزیوں پر کہا ہے کہ گورنر راج کے نفاذ سے مقبوضہ کشمیر میں مظالم میں مزید اضافہ ہو جائے گا اور دوسری طرف یہ بھی پتا چلا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جو بھارت نواز لوگ اور جماعتیں ہیں انھوں نے بھی بی جے پی کے ساتھ حکومت میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔

اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم پر اقوام متحدہ کی کمشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ آنے کے بعد دنیا کی انکھیں کھل گئی ہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی کر رہا ہے اور اس سے بھارت کا اصل چہرہ مزید بے نقاب ہو رہا ہے۔

(جاری ہے)

مقبوضہ کشمیر میں ایک جمہوری تحریک چل رہی ہے اسکے لئے ہم ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔

ہم اقتدار میں آکر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کوششیں کریں گے اور مقبوضہ کشمیر میں مظالم رکوانے کے لئے آواز اٹھائیں گے۔جبکہ خود بھارت کی سول سوسائٹی بھی بھارت پر زور دے رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے بھارت دنیا میں بے نقاب ہو رہا ہے۔ نواز شریف نے مودی کے ساتھ ملکر مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں چلنے والی تحریک کو نقصان پہنچایا۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے آج یہاں بنی گالہ میں آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم و پی ٹی آئی کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری سے ایک طویل ملاقات میں کیا۔ اس موقع پر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے عمران خان کو مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں بڑھتے ہوئے مظالم پر بریفنگ دی۔ جس پر عمران خان نے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو اختیار دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پارٹی کی پالیسی پر نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی پارٹی کی نمائندگی کریں۔

اس موقع پر عمران خان نے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو پی ٹی آئی کی انتخابی مہم کمیٹی کا ممبر بھی منتخب کر لیا۔ جس پر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے عمران خان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ انتخابات میں انکی توقعات پر پورا اتریں گے اور پارٹی کا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے موقف ہر جگہ پیش کریں گے۔اس موقع پر عمران خان نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل ہونا چاہیے اور کشمیری عوام کو انکی مرضی و منشاء کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

اس موقع پر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے عمران خان کو مسئلہ کشمیر اور پاکستان میں بسنے والے کشمیری مہاجرین کے حوالے سے بھی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 1947 ء اور 1965 ء کے کشمیری مہاجرین آباد ہیں جبکہ منگلا ڈیم متاثرین کی بھی بڑی تعداد آباد ہے اسی طرح جو لوگ یہاں ملازمتیں اور محنت مزدوری کرنے آئے وہ بھی یہاں پر آباد ہیں اسطرح تقریباً 35 سے 40 لاکھ کے قریب کشمیری مہاجرین پاکستان میں آباد ہیں جو پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

اس موقع پر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے عمران خان کو مزید بتایا کہ میں مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے بیرون ملک کے دورے پر جارہا ہوں اور میں جلد ہی واپس آکر پاکستان کے انتخابات میں کشمیری ووٹرز کومتحرک کرونگا۔ اس موقع پر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے عمران خان کو پی ٹی آئی کشمیر برطانیہ کی طرف سے 50 لاکھ روپے کا چیک بھی دیا۔