الیکشن میں قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ نہیں ہوگی،

میڈیا کیلئے ضابطہ اخلاق جاری کسی امیدوار یا جماعت کی مخالفت میں پروگرام نشر نہیں کیے جاسکیں گے ،ْ ضابطہ اخلاق ضابطہ اخلاق کے مطابق میڈیا انتخابات کے دوران عوام کو درست آگاہی فراہم کرنے کا پابند ہوگا

بدھ جون 17:03

الیکشن میں قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ نہیں ہوگی،
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات 2018 کے موقع پر میڈیا کیلئے ضابطہ اخلاق اور گائیڈ لائنزجاری کردیں۔۔الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے مطابق میڈیا انتخابات کے دوران عوام کو درست آگاہی فراہم کرنے کا پابند ہوگا۔ضابطہ اخلاق میں پابند کیا گیا کہ میڈیا عوام کو سیاسی جماعتوں، امیدواروں، انتخابی مہم اور ووٹنگ سے آگاہ کریگا جبکہ میڈیا متوازن اور غیر جانبدار رپورٹنگ کا پابند ہوگا، ٹاک شوز، نیوز اور کرنٹ افیئر پروگرامز میں کسی امیدوار یا جماعت سے متعصبانہ رویہ نہیں برتا جائے گا۔

ضابطہ اخلاق میں ہدایت کی گئی ہے کہ کسی امیدوار یاجماعت کی مخالفت یا جانبداری کے پروگرام نشر نہیں کیے جاسکیں گے اور میڈیا اپنی کوریج میں پروفیشنلز اسٹینڈرڈ کو ملحوظ خاطر رکھے گا۔

(جاری ہے)

الیکشن کمیشن کے مطابق افواہوں اور قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ نہیں کی جاسکے گی، نفرت انگیز تقاریر اور عوام میں بے چینی پھیلانے کی اجازت نہیں ہوگی اور پرتشدد عناصر پر مبنی مواد کی حوصلہ افزائی ہرگز نہیں کی جائے گی۔

ضابطہ اخلاق میں کہا گیا کہ میڈیا برداشت کو فروغ دینے میں مثبت کردار ادا کرے گا اور کسی مذہب، عقیدہ، ذات کو نشانہ بنانے سے متعلق مواد شائع یا نشر نہیں کرے گا۔۔الیکشن کمیشن کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق میں بتایا گیا کہ میڈیا کے خلاف پرتشدد کارروائیوں، ڈرانے دھمکانے اور املاک کو نقصان پہنچانے پر اتھارٹیز مکمل تحقیقات کی پابندہوں گی جب کہ امیدوار، سیاسی جماعتیں اور حکومتی اتھارٹیز میڈیا کے آزادی اظہار رائے کے حق کا احترام کریں گی۔یاد رہے کہ گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے عالمی مبصرین اور انٹرنیشنل میڈیا کے حوالے سے بھی ضابطہ اخلاق جاری کیا تھا۔