عام انتخابات 2018 ، الیکشن کمیشن نے میڈیا کیلئے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا

میڈیا انتخابات کے دوران عوام کو درست آگاہی فراہم کرنے کا پابند ہوگا، میڈیا متوازن اور غیر جانبدار رپورٹنگ کا پابند ہوگا، نیوز اور کرنٹ افیئر پروگرامز میں کسی امیدوار یا جماعت سے متعصبانہ رویہ نہیں برتا جائے گا، نفرت انگیز تقاریر اور عوام میں بے چینی پھیلانے کی اجازت نہیں ہوگی اور پرتشدد عناصر پر مبنی مواد کی حوصلہ افزائی ہرگز نہیں کی جائے گی، ضا بطہ اخلا ق

بدھ جون 17:15

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) الیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات 2018 کیلئے میڈیا نمائندوں کیلئے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، ضابطہ اخلاق کے مطابق میڈیا انتخابات کے دوران عوام کو درست آگاہی فراہم کرنے کا پابند ہوگا، میڈیا متوازن اور غیر جانبدار رپورٹنگ کا پابند ہوگا، ٹاک شوز، نیوز اور کرنٹ افیئر پروگرامز میں کسی امیدوار یا جماعت سے متعصبانہ رویہ نہیں برتا جائے گا، نفرت انگیز تقاریر اور عوام میں بے چینی پھیلانے کی اجازت نہیں ہوگی اور پرتشدد عناصر پر مبنی مواد کی حوصلہ افزائی ہرگز نہیں کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات کے لیے میڈیا نمائندوں کیلئے ضابطہ اخلاق جاری کر د۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق میڈیا انتخابات کے دوران عوام کو درست آگاہی فراہم کرنے کا پابند ہوگا۔

(جاری ہے)

میڈیا عوام کو سیاسی جماعتوں، امیدواروں، انتخابی مہم اور ووٹنگ سے آگاہ کریگا جب کہ میڈیا متوازن اور غیر جانبدار رپورٹنگ کا پابند ہوگا، ٹاک شوز، نیوز اور کرنٹ افیئر پروگرامز میں کسی امیدوار یا جماعت سے متعصبانہ رویہ نہیں برتا جائے گا۔

ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ کسی امیدوار یاجماعت کی مخالفت یا جانبداری کے پروگرام نشر نہیں کیے جاسکیں گے اور میڈیا اپنی کوریج میں پروفیشنلز اسٹینڈرڈ کو ملحوظ خاطر رکھے گا۔۔الیکشن کمیشن کے مطابق افواہوں اور قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ نہیں کی جاسکے گی، نفرت انگیز تقاریر اور عوام میں بے چینی پھیلانے کی اجازت نہیں ہوگی اور پرتشدد عناصر پر مبنی مواد کی حوصلہ افزائی ہرگز نہیں کی جائے گی۔

ضابطہ اخلاق میں مزید کہا گیا ہے کہ میڈیا برداشت کو فروغ دینے میں مثبت کردار ادا کرے گا اور کسی مذہب، عقیدہ، ذات کو نشانہ بنانے سے متعلق مواد شائع یا نشر نہیں کرے گا۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق میڈیا کے خلاف پرتشدد کاروائیوں، ڈرانے دھمکانے اور املاک کو نقصان پہنچانے پر اتھارٹیز مکمل تحقیقات کی پابندہوں گی ،جب کہ امیدوار، سیاسی جماعتیں اور حکومتی اتھارٹیز میڈیا کے آزادی اظہار رائے کے حق کا احترام کریں گی۔