تمام کشمیری نظربندوں کی رہائی کا مطالبہ

سینٹ کی قائمہ کمیٹی کی طرف سے مقبوضہ کشمیرمیں طاقت کے وحشیانہ استعمال کی شدید مذمت

بدھ جون 17:51

سری نگر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میں سینئر حریت رہنما اور تحریک حریت جموںوکشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے بھارت اورمقبوضہ علاقے کی جیلوں میں نظربند کشمیریوں کی گرتی ہوئی صحت پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محمد اشرف صحرائی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں مقبوضہ وادی کشمیر کے اطراف و اکناف میں آئے روز چھاپوں اور پکڑ دھکڑ کی کارروائیوں کی شدید مذمت کی۔

انہوںنے بھارت سے کہاکہ وہ کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے گرفتاریوں اور نظربندی کو ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کرنے کی بجائے جموںوکشمیر کے سیاسی تنازعے کو حل کرے۔مشترکہ حریت قیادت کے رہنمائوں اور کارکنوںنے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز کی طرف سے قتل عام ، پکڑ دھکڑ اور دیگر ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف سرینگر میں آبی گذرسے لال چوک تک ایک ریلی نکالی۔

(جاری ہے)

احتجاجی ریلی کے شرکاء نے اس موقع پر آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے بلند کئے۔ مظاہرین نے لال چوک میں احتجاجی دھرنابھی دیا۔ حریت رہنمائوںایڈووکیٹ بشیر احمد بٹ ، غلام نبی زکی اور حکیم عبدالرشید نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کیا۔امت اسلامی کے چیئرمین قاضی یاسر نے اسلام آباد قصبے میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت نے کشمیری عوام کے خلاف نفسیاتی ،جسمانی اور سیاسی محاذوں پر جنگ شروع کر رکھی ہے۔

ادھر بھارتی فوجیوںنے آج ضلع شوپیاں کے علاقے پنجورہ میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی کے دوران مظاہرین پر بلا اشتعال فائرنگ کی۔دوسری جانب اسلام آباد میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیرو گلگت بلتستان نے ایک اجلاس میںحق خودارادیت کا مطالبہ کرنے پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کے خلاف بھارتی فورسز کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کی مذمت کی۔

اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں راجہ ظفرالحق ، ساجد میر،ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل صلاح الدین ترمذی، ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل عبدالقیوم ، غلام محمد صفی ، محمد فاروق رحمانی اور عبدالحمید لون شامل تھے۔ادھرکشمیر نمائندے سید فیض نقشبندی نے جنیوا میں یورپی پارلیمنٹ کے رکن جان ہاورتھ سے ملاقات کی اوران کومقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر زید رعد الحسین نے بھارتی اخبار میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے ان کی رپورٹ پر بھارتی حکام کا ردعمل مایوس کن اورافسوسناک ہے کیونکہ رپورٹ میں زیادہ تر حقائق بھارتی حکومت کی دستاویزات اور ذرائع سے حاصل کئے گئے ہیں۔ ’’بے آواز کی سنو‘‘کے زیرعنوان مضمون میں انہوںنے بھارتی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لے اوریہ بات یاد رکھے کہ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں کی وجہ سے جموں وکشمیر کی پوری آبادی بالخصوص نوجوان محرومی کا شکار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام نے بار بار انصاف کی فراہمی اور تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔