نیب نے صاف پانی منصوبہ میں اربوں روپے کرپشن بارے قمر الاسلام پر چارج شیٹ تیار کرلی

چارج شیٹ میں گزشتہ آٹھ سالوں میں صاف پانی کی فراہمی کے نام پر شروع کئے گئے منصوبہ میں مبینہ کرپشن کی انمٹ داستانیں ہیں نیب کی چارج شیٹ کو عدالت میں دفاع کرنا شریف مافیا سے مشکل ، کرپٹ افراد کے گاڈ فادر نے ینب کیخلاف احتجاج کا اعلان کردیا

بدھ جون 17:53

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) نیب حکام نے صاف پانی کمپنی میں مبینہ اربوں روپے کی کرپشن بارے مسلم لیگ (ن) کے رہنما انجینئر قمر الاسلام کیخلاف چارج شیٹ تیار کرلی ہے ، چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ قمر الاسلام اور کیپٹن عثمان نے پنجاب میں صاف پانی کمپنی میں مبینہ اربوں روپے کی مالی بدعنوانی کے مرتکب ہوئے ہیں جبکہ کمپنی کے منصوبوں کے ٹھیکے نجی کمپنیوں کو دیتے ہوئے قواعد وضوابط کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں ۔

ذرائع سے موصول دستاویزات کے مطابق صاف پانی کمپنی کی کنسلٹنٹ کا ٹھیکہ (skafs) نامی کمپنی کو دیا گیا جس میں مبینہ طور پر ایک ارب 23 کروڑ 29لاکھ روپے کی مالی بدعنوانی کا الزام عائد کیا جائے گا قمر الاسلام پر الزام عائد کیا گیاہے اس نے اس منصوبہ کی فزیبلٹی رپورٹ کی تیاری پر 12 کروڑ روپے کی مالی بدعنوانی کی تھی ملزم پر الزام ہے ہ اس نے کمپنی کی نوے لاکھ روپے کی مالیتی قیمتی گاڑیاں افسران کے نام پر منتقل کی تھیں قمر الاسلام پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے قواعد وضوابط کے برعکس شہباز شریف کے داماد علی عمران کو دو کروڑ چالیس لاکھ روپے جاری کئے تھے اور ان کے پلازہ کا ایک فلور کرایہ پر بھی حاصل کیا جس کا کرایہ مارکیٹ سے تین سو گنا زیادہ دیا گیا اور کئی سال کا ایڈوانس بھی دے دیا گیا۔

(جاری ہے)

علی عمران سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کا داماد بننے سے پہلے بھاٹی گیٹ میں تین دکانوں کا مالک تھا داماد بننے کے بعد لاہورکے پوش ایریا میں تین پلازوں کا مالک بن گیا اور شہباز شریف نے پنجاب کی چھپن کمپنیوں کے متعدد دفاتر اپنے داماد کی ملکیتی پلازوں میں قائم کیں اور کرایہ کی مد میں کروڑوں روپے علی عمران کو جاری کئے علی عمران قوم کا پیسہ لوٹ کر لندن میں مقیم ہے جبکہ نیب علی عمران کو واپس لانے کیلئے انٹرپول سے رابطہ کیا ہے ۔

قمر الاسلام نے قواعد کے برعکس صاف پانی کے پمپس لگانے پر نجی کمپنی کو بجلی بلوں کی مد میں ایک کروڑ غیر قانونی طور پر ادا کئے جبکہ ایک کروڑ روپے سے زائد کی لگژری گاڑی خرید کر اپنے استعمال میں رکھی کمپنی میں منصوبوں کی تکمیل سے قبل ہی انکم ٹیکس کے نام پر کمپنی اکائونٹس سے دو کروڑ 77لاکھ روپے نکلوائے گئے تھے جبکہ ملزم نے سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں کیں اور قواعد کے برعکس چھیاسٹھ لاکھ روپے ادا کئے جبکہ ملازمین کا ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے اور اضافی سٹاف بھرتی کرکے ایک کروڑ بارہ لاکھ روپے کا مزید نقصان پہنچایا گیا تھا انجینئر قمر الاسلام نے صاف پانی کمپنی کی مزید کنسلٹنی کے نام پر شہباز شریف کے قریبی دوست کی کمپنی کو 19کروڑ 19لاکھ سے زائد کی رقوم ریلیز کی تھیں اس چارج کے ساتھ بینک کا ریکارڈ بھی نتھی کیا گیا ہے ۔

قمر الاسلام پر الزام ہے کہ کمپنی کی ٹھیکیدار کے ایس بی کمپنی کو 8 ارب 23 کروڑ جاری کئے جس میں بھاری کرپشن کی اور فلٹریشن پلانٹ کو تاحال آپریشنل بھی نہ ہوسکے جبکہ کمپنی کے افسران کو تین کروڑ چون لاکھ بیاسی ہزار روپے کرایہ پر گاڑیاں حاصل کرکے فراہم کیں جن کی منصوبہ میں کوئی ضرورت بھی نہ تھی ملزم پرالزام ہے کہ اس نے من پسند کنسلٹنٹ کمپنی سے سات کروڑ 74 لاکھ مالیت کا سرکاری سامان واپس بھی نہیں لیا تھا اور کمپنی پر سرکاری سامان اٹھا کر گھر لے کر چلی گئی قمر الاسلام نے شہباز شریف کے حکم پر اعلیٰ افسران کو بھرتی کیا جنہیں غیر قانونی طریقے سے تنخواہوں کی مد میں پانچ کروڑ اٹھاسی لاکھ روپے جاری کئے حالانکہ یہ افسران سرکاری خزانہ سے اپنی تنخواہیں مسلسل وصول کرتے رہے بطور کمپنی سربراہ قمر الاسلام نے ٹھیکیدار کمپنی کے پلانٹ کی بجلی بل 23لاکھ روپے سرکاری فنڈز سے ادا کیا جو ابھی تک ریکور ہی نہیں کیا جبکہ کنسلٹنٹ کمپنی ایس کے اے ایف کو ایڈوانس کے نام پر ایک کروڑ چھیاسٹھ لاکھ دیئے تھے جو وصول ہی نہیں ہوئے کے ایس بی نامی کمپنی کو چار کروڑ اڑتالیس لاکھ روپے کا غیر قانونی طور پر فائدہ دیا تھا قمر الاسلام پر الزام ہے کہ شہبازش ریف کے حکم پر فنانشل مینجمنٹ کا ٹھیکہ ایف ایم سی نامی کمپنی کو دے کر چودہ کروڑ 75لاکھ روپے کی کرپشن کے مرتکب ہوئے ہیں جبکہ کے ایس بی نامی کمپنی کو تین کروڑ چوالیس لاکھ روپے کا ناجائز فائدہ دے کر مالی بدعنوانی کے مرتکب قرار قمر الاسلام پنجاب میں صاف پانی کمپنی کے سربراہ تھے اور صاف پانی کی فراہمی کے نام پر آٹھ سال تک مسلسل لوٹ مار مچائی تھی جس پر انہیں شریف خاندان کی مستقل آشیر باد حاصل تھی اب نیب حکام نے اربوں روپے کی کرپشن پر گرفتار کیا ہے تو کہتے ہیں کہ مجھے کیوں گرفتار کیا اور گزشتہ آٹھ سال ہونے والی اربوں روپے کی کرپشن کا جواب نہیں دے رہے بلکہ کرپٹ مافیا کے گاڈ فادر نواز شریف نے کرپٹ لوگوں کو گرفتار کرنے پر نیب کیخلاف شدید احتجاج کرنے کا اعلان کررکھا ہے جس سے ان کی بدنیتی اور لاہوریا فراڈیا ثابت ہوتا ہے