معاشتی ترقی کیلئے صنعتوں کا قیام ناگزیر ہے، ثناء اللہ

محکمہ صنعت وفنی تعلیم کو ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے

بدھ جون 18:41

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) خیبرپختونخوا کے نگران وزیر برائے صنعت ومعدنیات محمد ثناء اللہ خا ن نے کہا ہے کہ صوبے کے معاشی ترقی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے صنعتوں کا قیام ناگزیر ہے۔ چین اقتصادی راہداری منصوبے کے قیام سے خیبرپختونخوا میںسرمایہ کاری کو فروغ ملنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے بھر پور مواقع بھی میسر آسکیں گے۔

سی پیک منصوبے سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کے لئے معیاری افرادی قوت تیار کرنے کے لئے محکمہ صنعت وفنی تعلیم کو ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے سول سیکرٹریٹ میں محکمہ صنعت سے متعلق ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدار ت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری محکمہ انڈسٹری،کامرس وفنی تعلیم محمد فہیم وزیر ،سپیشل سیکرٹری روح اللہ، ایڈیشنل سیکرٹری محمدانور خان ،چیئرمین بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈاکٹر قاسم ،ایم ڈی ٹیوٹا محمد امین کے علاوہ ٹریڈٹیسٹنگ بورڈ،گورنمٹ پرنٹنگ پریس، بورڈ آف انوسٹمنٹ، سمال انڈسٹریز ،ڈیویلپمنٹ بورڈ اور اے پی ایس یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ کے حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

(جاری ہے)

اس موقع پر نگران صوبائی وزیر کو اعلیٰ حکام کی جانب سے محکمہ صنعت کے متعلقہ شعبہ جات کے امور سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔حکام نے آگا ہ کیا کہ محکمہ صنعت’’ خیبرپختونخوا انڈسٹریل پالیسی 2016 ‘‘کے تحت صوبے میں نے نئی صنعتوںکے قیام کی حوصلہ افزائی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے مختلف قسم کی مراعات فراہم کررہاہے جس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آرہے ہیں۔

حکا م نے بتایا کہ خیبرپختونخوا اکنامک زون منیجمنٹ کمپنی کے قیام کے بعد صوبے میں بیماراوربندہونے والی صنعتوںکی بحالی کے لئے اقدامات کیے گئے جس کی بدولت 2200 افراد کو روزگار فراہم ہواجبکہ کراچی چائنہ اوردبئی میں خیبرپختونخوا میںسرمایہ کاری کی جانب بین الاقوامی سرمایہ کاروں اورصنعتی اداروں کوراغب کرنے کے لئے مختلف روڈ شوز بھی منعقد کیے گئے ۔

اس کے علاوہ خیبرپختونخوا واحد صوبہ ہے جس نے سب سے پہلے سی پیک منصوبے کے لئے رشکئی اورحطار سپیشل انکامک زونز کے پراجیکٹس بورڈ آف انویسٹمنٹ اوراین ڈی آر سی چائنہ کوبھجوائے ہیں ۔اس کے علاوہ حطار میں424 ایکڑ اراضی پر خیبرپختونخوا کے پہلے سپیشل اکنامک زون کاقیام عمل لایا گیاہے ۔محکمہ صنعت نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لئے چین اورملائیشیاء کے قومی اداروں کے ساتھ 29 مفاہمتی معاہدے کیے ہیں۔

وزیر صنعت نے محکمہ کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ پراطمینان کااظہار کرتے ہوئے نئی صنعتوںکے قیام کے لئے دی جانے والی مراعات اوربیمار صنعتوں کی بحالی کے لئے کیے جانے والے اقدامات کوبھی سراہا۔صوبائی وزیر نے اس موقع پر حکام کو ہدایت کی کہ صوبے میںمحکمہ فنی تعلیم کے زیراہتمام اداروں میں افرادی قوت کوفراہم کی جانے والی تعلیم کا زیادہ ترحصہ عملی تربیت پرمشتمل ہونا چاہئیے تاکہ یہ افرادمستقبل میںصنعتی شعبے میںدرپیش چیلنجز سے بخوبی نبردآزما ہوسکیں۔نگران وزیر صنعت ثناء اللہ خان نے کہا کہ نگران حکومت اپنے منیڈیٹ کے مطابق صنعتی شعبے کی ترقی اورفنی تعلیم کے فروغ کے لئے اپنا بھر پور کردار اداکرے گی۔