نگران وزیراعلیٰ کی تقرری کیخلاف دائررٹ پٹیشن پر ایڈووکیٹ جنرل سے جواب طلب

بدھ جون 18:41

نگران وزیراعلیٰ کی تقرری کیخلاف دائررٹ پٹیشن پر ایڈووکیٹ جنرل سے جواب ..
پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) پشاورہائیکورٹ نے جسٹس(ر)دوست محمدخان کی بطورنگران وزیراعلیٰ تقرری کے خلاف دائررٹ پٹیشن پر ایڈووکیٹ جنرل سے پانچ جولائی تک جواب طلب کرلیاہے۔۔عدالت عالیہ پشاورکے جسٹس قیصر رشید اور جسٹس اکرام اللہ خان نے پرمشتمل ڈویژن بنچ نے معروف قانون دان میاں عزیز الدین کاکاخیل کی جانب سے نگران وزیراعلیٰ کیخلاف دائررٹ پٹیشن کی سماعت کی۔

اس موقع پرنئے ایڈووکیٹ جنرل عبدالصمد خان عدالت میں پیش ہوئے۔رٹ پٹیشن میں موقف اپنایاگیاہے کہ نگران وزیراعلی کی تعیناتی آرٹیکل 62اور 63 کی خلاف ورزی ہے، سروسز آف پاکستان کے تحت ملازم پیشہ افراد ریٹائرمنٹ کے بعددو سال تک انتظار کرینگے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوا ، نگران وزیراعلی اور وزیر اعلی کے حلف میں کوئی تبدیلی نہیں ، قوانین پر عملدرآمد ضروری ہے، آئین کی بالادستی کیلئے کام کرنیوالے نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے ، نگران وزیراعلی کی تعیناتی جوڈیشل پالیسی 2009 کی خلاف ورزی ہے ، سپریم کورٹ کے جج اپنے سٹیٹس اور وقار سے سے کم عہدہ قبول نہیں کرسکتا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کوبتایاکہ انہوں نے آج ہی چارج لیا ہے ، مجھے وقت دیا جائے اگلے ہفتے تک جواب جمع کرا دونگا ۔ دورکنی بنچ نے کیس کی سماعت اگلے جمعرات 5جولائی تک ملتوی کردی۔