سعودی جیل میں قید پاکستانی شہری کی بیٹیاں اپنے والد کی رہائی کیلئے حکومتی امداد کے منتظر

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ جون 18:04

سعودی جیل میں قید پاکستانی شہری کی بیٹیاں اپنے والد کی رہائی کیلئے ..
جدہ (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔27جون 2018ء) سعودی جیل میں قید پاکستانی شہری ظہیر حسین کی بیٹیاں اپنے والد کی رہائی کیلئے حکومتی امداد کی منتظر ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سعودیہ کی جیل میں کئی سالوں سے قید ظہیر حسین کی بیٹی کا کہنا ہے کہ میں اپنے بابا کے لیے بہت دعائیں کرتی ہوں اور روتی ہوں۔میں اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ میرے بابا جیل سے جلدی رہا ہو جائیں۔

بچوں کے چہرے پر پہلی اداسی ان کے اپنےو الد سے چھ سال کی دوری کی داستان سنا رہی ہے۔ظہیر حسین کئی سالوں سے سعودی عرب میں ٹریفک ڈرائیور کی ملازمت کر رہا تھا۔ایک بار اس سے ایک ٹریفک حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں سعودی شہری جاں بحق ہو گیا۔ظہیر حسین چھ سال سے مکہ کی شمسی جیل میں قید ہے۔پانچ سال کی عمر کی آفرین اور دو سال کی رانیہ کی اپنے والد سے آخری ملاقات کئی سال پہلے ہوئی تھی۔

(جاری ہے)

ظہیر حسین کی بیٹیوں کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنے والد بہت یاد آتے ہیں۔کوئی ایسا ہے جو ہمارے بابا کو سعودیہ سے پاکستان واپس لا سکے۔ظہیر حسین کے والد بیٹی کی جدائی کے صدمے سے ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے،جب کہ ان کا چھوٹا بھائی گھر کی کفالت کا واحد سہارا ہے۔جن کا کہنا ہے کہ سعودیہ میں تعینات پاکستانی سفیر اور خاص طور پر راحیل شریف سے اپیل کرتا ہوں کہ ان بے سہارا بچوں کے والد ظہیر حسین کے والد کی رہائی کے لیے اقدامات کریں۔

ظہیر حسین پر سعودی قانون کے مطابق ٹریفک حادثے کی ذمہ داری ثابت ہونے پر دس لاکھ ریال دیت ہے۔جس کو معاف کروانے کے لیے حکومتی تعاون کی ضرورت ہے۔واضح رہے کہ سابق وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اس سال فروری کے مہینے میں مختلف ممالک کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کی تھیں جس کے مطابق بیرون ملک میں گرفتار یا نظر بند پاکستانیوں کی تعداد 10 ہزار 715 ہے۔ وزیرخارجہ کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا تھا پاکستانیوں کی سب سے زیادہ تعداد 3 ہزار 87 سعودی عرب کی جیلوں میں موجود ہے جبکہ یو اے ای میں 2 ہزار 710 پاکستانی شہری نظر بند ہیں۔