پاکستان میں تعینات سوئس سفیر تھامس کولی کیصدر آزادکشمیر سے ملاقات

ْپاکستان اور سوئٹزرلینڈ دونوں دوستانہ سفارتی تعلقات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جو باہمی اعتماد اور تعاون پر مبنی ہیں، مستقبل میں یہ تعلقات دونوں ملکوں کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور میں مزید مستحکم ہونگے ،ْسردار مسعود خان

بدھ جون 19:03

مظفرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) پاکستان میں تعینات سوئس سفیر تھامس کولی نے بدھ کو ایوان صدر میں صدر آزادجموں وکشمیر سردار مسعود خان سے ملاقات کی۔ صدر آزاد جموں وکشمیر نے سوئس سفیر کے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سوئٹزرلینڈ دونوں دوستانہ سفارتی تعلقات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جو باہمی اعتماد اور تعاون پر مبنی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں یہ تعلقات دونوں ملکوں کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور میں مزید مستحکم ہونگے۔ میٹنگ میں دوران گفتگو سوئس سفیر نے کہا ہے کہ ثقافتی اور تعلیمی شعبوں میں باہمی اشتراک، تجارت، سیاحت ، سماجی،ثقافتی اور اقتصادی شعبوں میں سوئٹزرلینڈ اور پاکستان کے لوگوں کے مابین تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لئے مثبت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

(جاری ہے)

صدر آزاد جموں وکشمیر نے کہا ہے کہ سوئٹزر لینڈ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے ٹاپ ممالک میں سے ایک ہے جو پاکستان کا ایک اہم تجارتی اور سرمایہ کار پارٹنر ہے اور امید ہے کہ پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان تجارتی حجم حقیقی صلاحیت کے ساتھ مزید بڑھتا جائے گا۔ سوئس سفیر کولی نے کہا ہے کہ سوئس ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے پاکستان میں طویل مدنی سرمایہ کاری سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات مزیدمضبوط ہوں گے۔

مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و تشدد اور قتل وغارت گری کا بازار گرم کر رکھا ہے جہاں نام نہاد سرچ آپریشنز کی آڑ میں کشمیریوں کے گھروں پر حملہ کیا جاتا ہے ۔ چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے ۔ کشمیری نوجوانوں کو سر عام قتل کیا جا رہا ہے ۔

کشمیری قائدین اور کشمیری نوجوانوں کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا جا رہا ہے ۔ صدر نے کہا ہے کہ ظلم و ستم کی حد یہ ہے کہ پرامن کشمیری مظاہرین کو اپنے حق، حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے کے لئے ایک جگہ جمع ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کی جانب سے حالیہ شائع ہونے والی رپورٹ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ میں بھی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی غیر معمولی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری، ماورائے عدالتی قتل،، غیر قانونی قیدوبند اور سینکڑوں گمنام قبریں شامل ہیں۔

صدر نے کہا کہ اس کے برعکس پورے پاکستان میں آزادکشمیر میں جرائم کی شرح انتہائی کم اور شرح خواندگی سب سے زیادہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں بالخصوص سیاحت ، توانائی کی پیدوار اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے سرمایہ کاری کرنے کے لئے نہایت موزوں جگہ ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے سال 2005ء کے تباہ کن زلزلہ کے بعد متاثرین کی بحالی کے لئے امداد پر سوئٹزرلینڈ کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ سوئس ڈویلپمنٹ کو آپریشن ایجنسی نے متاثرین کو خوراک کی حفاظت ، صاف اور تازہ پانی کی فراہمی اور ان کی منتقلی کے کاموں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے بھرپور معاونت کی ہے۔ صدر آزاد جموں کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کی طرح آزادکشمیر بھی جغرافیائی طور پر خطے میں خوبصورتی کے باعث سیاحت کے لئے نہایت موزوں جگہ ہے ۔

جہاں سیاحت کے فروغ کے لئے بے شمار مواقع موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر چہ آزادکشمیر میں سیاحت کی صنعت ابھی ابتدائی مراحل میں ہے تاہم حکومت اور پیشہ وارانہ ٹور آپریٹر کی مدد سے ہم آزادکشمیر میں سیاحوں کی سہولیات کے لئے ریسٹ ہائوسز ، ہوٹلز ، ریسٹورنٹس اور پارکس تعمیر کریں گے۔ صدر نے سوئس سفیر کو بتایا کہ آزادکشمیر میں سیاحت کی صنعت کو فروغ دینے کیلئے مختلف منصوبہ جات پر کام کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام سیاحتی مراکز، مظفرآباد ، سدھن گلی، لس ڈنہ، تولی پیر، بنجونسہ اور حاجی پیر کو 200کلو میٹر ایک سیاحتی کوریڈور سے منسلک کیا جا رہا ہے جو ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا باعث ہو گا۔ ازاں بعد سوئس وفد سے سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق، وزیر خزانہ ڈاکٹر نجیب نقی، وزیر سپورٹس چوہدری محمد سعید اور وزیر سماجی بہبود و ترقی نسواں محترمہ نورین عارف نے بھی غیر رسمی ملاقات کی۔