ایل پی جی ریٹیل سیلز پوائنٹس کے متاثرین کا پولیس کی جبری بندش کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ

بدھ جون 19:58

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) ضلع غربی میں قائم ایل پی جی کی200سے زائد ریٹیل سیلز پوائنٹس کے متاثرین نے پولیس کی جبری بندش کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیاہے۔ ضلع غربی میں ایل پی جی ریٹیل سیلز پوائنٹس کی ایک ہفتے سیجبری بندش کے باعث آٹو موٹیو اور پبلک ٹرانسپورٹ کی مشکلات بڑھگئی ہیں جو ایل پی جی کے حصول کے لیے شہر کے دیگر اضلاع میں قائم ایل پی جی ریٹیل سیلز پوائنٹس کا رخ کررہے ہیں۔

ضلع غربی کیریٹیل سیلز پوائنٹس کی بندش کے نتیجے میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے 1000 سے زائد افراد بے روزگار ہوگئے ہیں۔ آل پاکستان ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر محمداسحاق خان نے بتایا کہ ضلع غربی میں حال ہی میں تعینات ہونے والے ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کی تاجر دشمن اور یکطرفہ کاروائیوں نیضلع بھرکی تجارتی سرگرمیوں کوبری طرح متاثرکردیا ہے۔

(جاری ہے)

پولیس کاکام جرائم پر قابو پانا ہے لیکن اب اس محکمہ نے تجارتی سرگرمیوں میں بھی مداخلت شروع کردی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ضلعی پولیس کی سیلز پوائنٹس کی جبری بندش کے خلاف ایسوسی ایشن نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ضلع غربی میں ایل پی جی کاکاروبار بند ہونے سے شہرمیں ایل پی جی کی یومیہ فروخت50 فیصد گھٹ گئی ہے کیونکہ ریٹیل کی سطح پر سب سے زیادہ ایل پی جی کی فروخت ضلع غربی میں ہوتی اور یہ سیلز پوائنٹس ضلع بھر کی نہ صرف پبلک ٹرانسپورٹ بلکہ گھریلو ،تجارتی اور صنعتی صارفین کو یومیہ 220 تا 250 ٹن ایل پی جی فراہم کرتی ہیں۔

انہوں نے نگراں وزیراعلی سندھ اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملے کی سنگینی کانوٹس لیتے ہوئے متاثرین کی داد رسی کریں اور سستے متبادل ایندھن کی فروخت میں حائل رکاوٹ کاخاتمہ کرتے ہوئے ضلع بھر کے ایل پی جی ریٹیل سیلز پوائنٹس کھولنے کے احکامات جاری کریں۔