سابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، خورشید شاہ اور ناصر شاہ کو ووٹرز کے غصے کا سامنا

بدھ جون 20:16

سابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، خورشید شاہ اور ناصر شاہ کو ووٹرز ..
سکھر/پنوں عاقل (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) پیپلزپارٹی کے رہنمائوں کو ووٹروں کے غصے کا سامنا ہے اور ووٹروں نے خورشید شاہ،، مراد علی شاہ سمیت ناصر شاہ کو بھی گھیر لیا جس پر انہیں جان چھڑانا پڑگئی۔عام انتخابات کی آمد آمد ہے اور سیاسی جماعتوں کے امیدوار انتخابی مہم کے سلسلے میں اپنے اپنے حلقوں کا دورہ کررہے ہیں لیکن اس بار بعض سیاسی رہنماں کو اپنے حلقے کے لوگوں کی طرف سے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

گزشتہ روز پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ پنوں عاقل کے دورے پر گئے جہاں ووٹرز نے ان سے تندو تیز سوالات کیے اور پوچھا کہ 10سال حکومت میں رہنے کے باوجود آپ نے علاقے کے لیے کیا کیا نوجوان کے سوال پر خورشید شاہ جواب دینے سے قاصر رہے اور مسکرا کر چل دیئے۔

(جاری ہے)

پیپلزپارٹی کے ایک اور رہنما اور سابق وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کو بھی اپنے حلقے سیہون پی ایس 80کے دورے میں ووٹرز کا سامنا کرنا پڑا۔

سابق وزیراعلی سندھ اپنی رہائش گاہ واہڑ سے باہر نکلے تو ایک ووٹر نے ان سے شکوہ کیا کہ آپ نے ہمارے لیے کیا کیا میرے والد پیپلزپارٹی کے دیرینہ کارکن ہیں لیکن ہمارے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ووٹر کے سوال پر مراد علی شاہ نے پہلے تو اسے بہلانے پھسلانے کی کوشش کی لیکن ووٹر کے بار بار اصرار پر سابق وزیراعلی نے خفگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا مجھے بھی سنو گے یا نہیں ووٹر کو بار بار ٹھنڈا کرنے کی کوشش میں ناکامی پر مراد علی شاہ وہاں سے چل دیئے جب کہ اس موقع پر ایک صحافی ویڈیو بنارہا تھا جسے سابق وزیراعلی نے ویڈیو بنانے سے بھی منع کیا اور اس کے نہ ماننے پر کیمرے پر ہاتھ دے مارا۔

دوسری جانب پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ اور ناصر شاہ کو بھی سکھر کے نواحی علاقے حسین کلوڑ میں لوگوں نے گھیر لیا اور کام نہ ہونے پر غصے کا اظہار کیا۔علاقہ مکینوں نے خورشید شاہ اور ناصر شاہ کی گاڑی روک لی اور خورشید شاہ سیمکالمہ کیا کہ کسی وڈیرے کے کہنے پرووٹ نہیں دیں گے،آپ نوکری کی ضمانت دیں۔علاقہ مکینوں کا کہنا تھاکہ پیپلزپارٹی کے دور میں بھاگ بھاگ کر تھک گئے لیکن نوکری ملتی ہے تو خاکروب کی، کیا ہم خاکروب کا کام کریں خورشید شاہ اور ناصر شاہ نے لوگوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کراکے جان چھڑائی۔