پشاورہائی کورٹ نے ڈی ایچ کیو صوابی میں تعیناتیوں سے متعلق کیس کی سماعت میں سیکرٹری ہیلتھ اورچیف سیکرٹری کی تنخواہ بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے

بدھ جون 20:30

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) پشاورہائی کورٹ نے ڈی ایچ کیو صوابی میں تعیناتیوں سے متعلق کیس کی سماعت میں سیکرٹری ہیلتھ اورچیف سیکرٹری کی تنخواہ بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے، فاٹا انٹرم گورننس ریگولیشن ایکٹ کے خلاف درخواست کی ،،سماعت میں عدالت نے وفاقی وزارت سیفران اور وزارت قانون کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا سے جواب طلب کرلیا۔

پشاور ہائی کورٹ میں ڈی ایچ کیو صوابی میں تعیناتیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ،،عدالت نے سیکرٹری ہیلتھ اورچیف سیکرٹری کی تنخواہ بند کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت پر جواب طلب کرلیا ،درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ ڈی ایچ کیو میں نظر انداز کرکے جونیئر افسر کو اگلے گریڈ میں تعینات کیا گیا،کیس کی سماعت جستس سیٹھ وقار اورناصر محفوظ ہر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی ،ڈی ایچ کیو صوابی کے ای این ٹی اسپیشلسٹ ڈاکٹر عبدالرحمان انور نے پشاور ہائی کورٹ میں پروموشن نہ ہونے کے خلاف رٹ دائر کی تھی،ہائی کورٹ نے متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا تھا تاہم جواب نہ دینے پر تنخواہیں بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔

(جاری ہے)

فاٹا انٹرم گورننس ریگولیشن ایکٹ کے خلاف الگ درخواست کی سماعت میں عدالت نے وفاقی وزارت سیفران اور وزارت قانون کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخواہ سے جواب طلب کرلیا،درخواست گزار کا کہنا تھا کہ فاٹا میں کمشنر کو جج کے اختیارات دینا غیرقانونی ہے۔