سینیٹر سیّد شبلی فراز کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کامرس و ٹیکسٹائل انڈسٹری کا اجلاس

آئی پی او کے نئے سربراہ چیئرمین کی اپنے نقطہ نظر، روڈ میپ اور ادارے کی موثریت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ

بدھ جون 20:54

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کامرس و ٹیکسٹائل انڈسٹری کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیّد شبلی فراز کی صدارت میں پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ انٹیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن کے نئے سربراہ چیئرمین مجیب احمد خان کی طرف سے اپنے نقطہ نظر، روڈ میپ اور ادارے کی موثریت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کمیٹی کو بتایا کہ ادارہ 2005ء کیبنٹ ڈویژن کی زیر نگرانی بنی ۔

آئی پی او پاکستان ایکٹ 2012ء کے تحت کام کرتا ہے۔ آئی پی او پاکستان پالیسی بورڈ میں 14 ممبران ہیں جس میں ایک چیئرمین بورڈ ہوتا ہے جس کی مدت تین سال ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ ادارے کی افادیت مزید بہتر بناتے ہوئے ای دفاتر کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ ایچ ای سی کے تعاون سے یونیورسٹیوں میں آئی پی او کو مضمون کے طور پر متعارف کیا جارہا ہے۔

خواتین کے ٹیکسٹائل ڈیزائنگ کے حوالے سے ادارہ جاتی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کراتے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ ادارے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں تعلیم یافتہ اور پیشہ ور افراد کا ہونا ضروری ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے مزید کہا کہ این آئی سی ایل نے 6 ارب روپے سندھ ریونیو بورڈ کو کس قانون کے تحت دیئے ہیں اس کی مکمل تفصیل کمیٹی کے اگلے اجلاس میں پیش کی جائے اور این آئی سی ایل کے کنڑیکٹ اور ایڈہاک ملازمین کی مستقلی کے حوالے سے کئے گئے اقدامات کی مکمل تفصیل سیکرٹری کامرس اگلے اجلاس میں تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔

چیئرمین کمیٹی نے زراعت کمیٹی کے چیئرمین اور سٹیٹ بنک کے حکام کو طلب کر لیا۔ سیکرٹری ٹیکسٹائل شاہ رخ نصرت نے کمیٹی کو بتایا کہ جی ڈی پی کے 60 فیصد حصہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ اگلے اجلاس میں اس کی مکمل تفصیل فراہم کی جائے۔ ایڈیشنل سیکرٹری لاہور گارمنٹس سٹی سینٹر نے کمیٹی کو بتایا کہ 2014 سے یہ کمپنی کام کر رہی ہر سال 35 ملین ڈالر کی ایکسپورٹ ہورہی ہے ۔

سیکرٹری فیصل آباد گارمنٹس سٹی سینٹر نے کمیٹی کو بتایا کہ کل دو کمپنیاں ہیں مسعود ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ 2 لاکھ 32 ہزار سکوائر فٹ پر مشتمل ہے جبکہ انٹر لوپ لمیٹڈ ایک لاکھ 35 ہزار سکوائر فٹ پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلڈنگ میں لیبر کالونی موجود نہیں ہے ۔ 6 ہزار مزدور کام کر رہے ہیں جس میں 52 فیصد خواتین ہیں۔ ٹرانسپورٹ کی مد میں 6 ملین یومیہ خرچ ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ کسی کے بھی لائسنس کو ری نیو نہ کیا جائے جب تک اس معاملے کو حل نہ کیا جائے نئے منصوبہ جات ، بلڈنگ کے کرایوں اور بجٹ کے حوالے سے مکمل تفصیل اگلے اجلاس میں کمیٹی کو فراہم کیں جائیں۔ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز غوث محمد خان نیازی، اورنگزیب خان ،عطاء الرحمن، نزہت صادق کے علاوہ سیکرٹری کامرس، سیکرٹری ٹیکسٹائل، چیئرمین آئی پی او اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔