اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام ’’مشتاق احمد یوسفی قومی ادبی تعزیتی ریفرنس‘‘ کا انعقاد

بدھ جون 20:59

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) مشتاق احمد یوسفی منفرد اسلوب کے بڑے مزاح نگار تھے۔ ان خیالات کا اظہار افتخار عارف نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام ممتازمزاح نگار، ادیب اور دانشور مشتاق احمد یوسفی کی یاد میںمنعقدہ ’’مشتاق احمد یوسفی قومی ادبی تعزیتی ریفرنس‘‘ میںصدارت کرتے ہوئے کیا۔ چیئرمین اکادمی سیّد جنید اخلاق نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔

پروفیسر فتح محمد ملک، کشور ناہید، پروفیسر انور مسعود اور مسعود مفتی نے مشتاق احمد یوسفی کی ذات اور ادبی خدمات کے حوالے سے اپنے اپنے تاثرات پیش کئے۔ نظامت علی یاسرنے کی۔ افتخارعارف نے کہا کہ بحیثیت مزاح نگار، مشتاق احمد یوسفی عہد ِ حاضر کے ممتاز ترین لکھاری تھے شاید ہی کوئی دوسرا نثر نگار ہو جس کے جملے عوام اور خواص کے حافظے میں یوں محفوظ ہوں جیسے اشعار محفوظ ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)

یہ صرف یوسفی کا ہی اسلوب ہے۔ چیئرمین اکادمی سید جنید اخلاق نے کہا کہ مشتاق احمد یوسفی کا شمار اردو کے صفِ اول کے لکھاریوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے طنزو مزاح کے حوالے سے اپنا الگ مقام بنایا۔ مشتاق احمد یوسفی مرحوم پاکستانی ادب کے معماروں میں شامل ہیں۔ اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے انہیں ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ’’کمالِ فن ایوارڈ‘‘ بھی پیش کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اکادمی نے مشتاق احمد یوسفی کے فن اور شخصیت پر ایک کتاب پاکستانی ادب کے معمار سلسلہ میں شائع کی ہے۔ انشاء اللہ بہت جلد یہ کتاب مناسب ترامیم و اضافہ جات کے بعد نئے ایڈیشن کی صورت میں دوبارہ شائع کی جارہی ہے۔ آج کے تعزیتی ریفرنس کا مقصد مشتاق احمد یوسفی کی ادبی خدمات اور اعلیٰ تحریروں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔ ان کا کام ہمیشہ اردو ادب کے اعلیٰ ترین سرمایے کے طور پر ہمیں مستفید کرتا رہے گا۔

انہوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے اور اپنی طرف سے تمام محبانِ یوسفی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان ، پاکستانی ادب اور ادیبوں کے حوالے سے اپنی سرگرمیاں اور خدمات انشاء اللہ جاری رکھے گی۔ پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ ہم مشتاق احمد یوسفی کو ایک مزاح نگار کی حیثیت سے جانتے ہیںحالانکہ وہ بہت بڑی ادبی شخصیت تھے جس کے اثرات ہماری ادبی تاریخ اور تہذیب پر لازوال ہیں۔

کشور ناہید نے کہا کہ مشتاق احمد یوسفی بہت بڑے مزاح نگار تھے۔ انہوں نے ہمارے لیے ایسا سرمایہ چھوڑا ہے جس کو بھلایا نہیں جا سکتا ہے۔انہوں نے چھوٹے چھوٹے فقروں سے نہایت دل آویز مضامین باندھے۔ پروفیسر انور مسعود نے کہا کہ مشتاق احمد یوسفی بڑے ادیب اور بڑے انسان تھے ، اُن کے لفظوں کے مساموں سے شگفتگی پھوٹتی تھی۔ وہ عہد ِ ظرافت کا آغازتھے ، اُن کی رحلت سے عہد ظرافت اختتام کو پہنچا۔

مسعود مفتی نے کہا کہ مشتاق احمد یوسفی کی سب سے بڑی خوبی اُن کی کمٹمنٹ تھی، وہ اپنے کام سے انتہائی اخلاص اور جنون کی حد تک گہر ی وابستگی رکھتے تھے۔ وہ انتہائی اہتمام اور یک سوئی سے لکھتے تھے، وہ جس کام کے پیچھے لگ جاتے اُس کو انتہائی احسن طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچاتے۔ تقریب میں حاضرین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

متعلقہ عنوان :