بٹ خیلہ، فا ٹا انضمام فیصلے پر نظرثانی نہ ہونے کی صورت میں تاجر تنظیموں کا حکومت سے بغاوت کا اعلان

بدھ جون 21:16

بٹ خیلہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) مالاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع کے تاجر تنظیموں نے جداگانہ قانونی حیثیت کے خاتمے کے خلاف ایکا کرکے فا ٹا انضمام فیصلے پر نظرثانی نہ ہونے کی صورت میں حکومت سے بغاوت کا اعلان کردیا اس سلسلے میں ایک اہم اجلاس بٹ خیلہ میں تاجر رہنما حاجی گل عظیم کی رہائش گاہ پر ڈویژنل صدر حاجی شاکر اللہ خان کی صدارت میں منعقدہوا جس میں سوات ٹریڈ یونین کے صدر عبدالرحیم ، دیر بالا خالد روغانی ، تیمرگرہ انوار الدین ، بریکوٹ معراج الدین ، بونیر حاجی بشیر ، خال اخون زادہ تلاوت خان ، عالم خان ،سخاکوٹ حمید خا ن لالہ ، بی بیوڑ جہانگیر خان ، درگئی شیرین خان ، بٹ خیلہ ملک دلنواز خان ، فضل جمیل اور دیگر تنظیموں کے ڈھائی سو تاجروں نے شرکت کی بعدازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سوات ٹریڈیونین کے صدر عبدالرحیم نے کہا کہ فاٹا اور پاٹا انضمام میں آرٹیکل 247میں مالاکنڈ ڈویژن کے لیے ترمیم کی ضرورت تھی لیکن یہاں حکومت نے آرٹیکل ہی ختم کردی ‘ڈویژن کی پاٹا والی حیثیت بے آثر ہوگئی ہے اور یکم جولائی سے تمام تر ٹیکسز نافذ العمل ہوں گے جس کے خلاف ڈویژن کے عوام خصوصاً تاجر تنظیمیں آخری حد تک اپنا احتجاج جاری رکھے گی انہوں نے کہا کہ سیاسی بازیگروں نے مصیبت زدہ اور مسائل کے شکار عوام کو مشکل وقت میں تنہا چھوڑ دیا اور بل پڑھے بغیر انگلی کے اشارے پر دستخط کرکے پاس کیا جس سے قبائل پر ایف سی آرتو ختم ہوئی لیکن ہماری خصوصی حیثیت بھی چھین لی گئی ہے اس ضمن میں سیاسی نمائندوں نے قومی مجرموں کا کردار ادا کیا انہوں نے کہا کہ ٹیکسز نفاذ کے لیے حکومت کو ہماری لاشوں پر سے گزرناہوگا انہوں نے کہا کہ بہت مشکل سے عوام ، پاک فوج اور پولیس کے شہادتوں اور قربانیوں کی بدولت آمن قائم ہوا ہے اور مذکورہ فیصلے سے حالات پھر سے خراب ہوں گے جس کے انتہائی بھیانک نتائج برآمد ہوں گے کیونکہ یہ عوام کی تقدیر کا فیصلہ ہے انہوں نے کہا کہ پہلے ٹیبل ٹاک ،عوامی شعور بیدار کرنے اور ملاقاتوں کے ذریعے فیصلہ واپس لینے کی جدوجہد کررہے ہیںاور اگر حکومت نے کوئی توجہ نہیں دی تو پھر احتجاجی مظاہروں ، ہڑتالوں اور دھرنوں کے ساتھ ساتھ الگ صوبے کا مطالبہ بھی اٹھائیں گے حاجی شاکر اللہ نے کہا کہ فاٹا اور پاٹا انضمام بل کی مخالفت کرنے پر پوری تاجر تنظیمیں جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور پختون خو املی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور اگر ممکن ہوا تو ان کے ساتھ بھر پور سیاسی تعاون کیا جائے گا انہوں نے کہاکہ نابالغ ،نااہل ،نالائق اور مفاد پرست سیاسی لوگوں کی وجہ سے یہ بحران پیدا ہوا ہے اگر انہوں نے بروقت آواز اٹھائی ہوتی تو آج یہ نوبت دیکھنا نہیں پڑتی انہوں نے کہاکہ ہم کسی بھی طور ڈویژن کی آزاد حیثیت کے خاتمے اور ٹیکسز قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور اگر اس میں ہماری جانیں بھی قربان ہوجائیں تو بھی دریغ نہیں کریں گے۔