قائم کردہ سنٹرل الیکشن سیل کے قیام سے امیدواروں کو معاونت حاصل ہوگی،تاج حیدر

سیاست کو پیچھے دھکیل جارہا ہے ، جو الیکٹیبلز پہلے مشرف کے پاس گئے ، پھر نوازشریف اور اب تیسری پارٹی کے پاس چلے گئے ہیں،خریدوفروخت کی سیاست کیخلاف عدالت جانا چاہیے منشور کا اعلان بھٹو زرداری کریں گے جو انقلابی اورجنوبی پنجاب صوبے اس کا حصہ ہوگا سندھ میں کینسر اور جگر کا فری علاج ہورہاہے ، دوسرے صوبوں سے بھی لوگ آرہے ہیں ،ہمارا مقابلہ لاہور سے نہیں عالمی سطح پر ہے چیئرپرسن ماروی میمن ابھی تک اپنے عہدے پر ابھی تک فائز ہیں ، ان سمیت جو عہدوں پر فائز ہیں ان کو ہٹایا جائے ،رہنما پی پی پی کی میڈیا سے گفتگو

بدھ جون 21:38

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما و پیپلزپارٹی سنٹرل الیکشن سیل کے سربراہ تاج حیدر نے کہا ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو نے سنٹرل الیکشن سیل کا قیام عمل میں لایا ہے جو پارٹی کی انتخابی مہم اور امیدواروں کو معاونت فراہم کرے گا،یہ سیل محسوس کرتا ہے کہ سیاست کو پیچھے دھکیل جارہا ہے جو الیکٹیبلز پہلے مشرف کے پاس گئے ، پھر نوازشریف اور اب تیسری پارٹی کے پاس چلے گئے ہیں ، الیکشن سیل کی کوشش ہو گی کہ ایشوز کی سیاست کی جائے اور سیاست میں ذاتیات اور گالم گلوچ سے کام نہ لیا جائے ، پیپلزپارٹی کا منشور انقلابی ہو گا اور جنوبی پنجاب صوبے کا قیام منشور کا حصہ ہے، مردم شماری میں آبادی کا درست نہ ہونا دھاندلی کا آغاز ہے ، الیکشن کمیشن کے فیصلے کے باوجود 137آراوز کے سندھ میں تبادلے کردیئے گئے ہیں، سندھ میں افغانستان سے لوگ علاج کرانے کیلئے آتے ہیں۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہاکہ الیکشن سیل میں مجھ سمیت لطیف کھوسہ ، سینیٹر رخسانہ زبیر ، لال بخش بھٹو ، بیرسٹر عامر ، نذیر ڈوکی اور لطیف اکبر شامل ہیں۔۔الیکشن سیل کی پہلی میٹنگ کراچی اور دوسری اسلام آباد میں ہوئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کے ساتھ ہمیشہ ناانصافی ہوئی ہے ہم نے آمریت کا مقابلہ کیا ہے اور ہمارے لوگ ناانصافیوں کے باوجود اپنی جماعت کیساتھ کھڑے رہے ہیں، پیپلزپارٹی کی سیاست عوام کی طرف گھومتی ہے جبکہ دوسری پارٹیوں کے سیاست اپنے ذاتی مفادات کے لئے ہوتی ہے ۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری منشور کا اعلان کریں گے اور ہمارا منشور انقلابی ہو گا ، الیکشن میں دھاندلی کا آغاز مردم شماری سے ہی ہوگیا تھا اور کراچی میں حلقہ بندیاں نسلی اور زبان کی بنیاد پر کی گئی ہیں اگر پرانی حلقہ بندیاں رہتی تو ٹھیک ہوتا ۔تاج حیدر نے کہا کہ شہبازشریف نے جو حلقہ سلیکٹ کیا ہے وہ دہشت گردوں کا علاقہ ہے تشدد اور جمہوریت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ، پیپلزپارٹی سیاست میں تشدد اور ذاتیات کو سیاست سے پاک کرنا چاہتی ہے ، بلاول بھٹو کا قیام کردہ یہ سیل چوبیس گھنٹے کام کرے گا جو پارٹی کا موقف اور منشور کے حوالے سے آگاہی فراہم کرتا رہے گا ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خرید وفروخت کی سیاست کیخلاف عدالت میں جانا چاہیں یہ الیکٹیبلز چاہتے ہیں کہ عوام بھیڑ بکریاں ہیں ، انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی پر مقدمے پہلے اور تحقیقات بعد میں کی جاتی تھیں اور 12سال جیل میں رہنے کے باوجود بھی کچھ ثابت نہیں ہوتا تھا۔انہوں نے کہا کہ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ جانبدار لوگوں کو عہدوں سے ہٹایا جائے اور بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن ماروی میمن ابھی تک اپنے عہدے پر ابھی تک فائز ہیں ، ان سمیت جو عہدوں پر فائز ہیں ان کو ہٹایا جائے۔

ہم نے کہا تھا کہ 62اور63کو 1973ء کے آئین کے مطابق رکھا جائے ، پیپلزپارٹی کیخلاف پہلے بھی دھاندلی ہوتی رہی ہے یہ بھی وقت تھا جب بے نظیر بھٹو 17ممبران کے ساتھ اسمبلی میں آئی تھیں ، عدالت نے یوسف رضا گیلانی کو نااہل کیا تو انہوں نے تو نہیں کہا تھا کہ مجھے کیوں نکالا گیا ۔۔سندھ میں کینسر اور جگر کا فری علاج ہورہاہے اور دوسرے صوبوں سے بھی لوگ آرہے ہیں ، تھر میں کوئلے کی پیداوار شروع ہوچکی ہے ،ہمارا مقابلہ بین الاقوامی سطح پر ہے لاہور یا دوسرے شہروں سے نہیں ہے ۔ طارق ورک