کالا باغ ڈیم کی تعمیر اناکی نذز ہوگئی ، ہم نے چاروں بھائیوں کو جوڑنا ہے،توڑنانہیں ، سپریم کورٹ

کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے وفاقی اکائیوں کے اتحاد پر برے اثرات پڑتے ہیں تو دوسر ی جگہوں پرڈیم بنانے کے آپشنز غور کرنا ہو گا، پانی پاکستان کی بقاء کامسئلہ بن چکا، معاملے کے حل کیلئے سنجید ہ اقدامات کرنا ہوں گے، پاکستان ڈیم نہیں بنائیگا تو سوچ لیں 5 سال بعد ملک میں پانی کی صورتحال کیا ہوگی، ہمیں ہنگامی بنیادوں پر اس معاملے پرکام کرنا ہوگا،چیف جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس

بدھ جون 21:42

کالا باغ ڈیم کی تعمیر اناکی نذز ہوگئی ، ہم نے چاروں بھائیوں کو جوڑنا ..
ْاسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر اناکی نذز ہوگئی ہے، ہم نے چاروں بھائیوں کوجوڑنا ہے،توڑنانہیں ، اگرکالا باغ ڈیم کی تعمیر سے وفاقی اکائیوں کے اتحاد پر برے اثرات پڑتے ہیں تو دوسر ی جگہوں پرڈیم بنانے کے آپشنز غور کرنا ہو گا، پانی پاکستان کی بقاء کامسئلہ بن چکا ہے، معاملے کے حل کیلئے سنجید ہ اقدامات کرنا ہوں گے، پاکستان ڈیم نہیں بنائیگا تو سوچ لیں 5 سال بعد ملک میں پانی کی صورتحال کیا ہوگی، ہمیں ہنگامی بنیادوں پر اس معاملے پرکام کرنا ہوگا۔

بدھ کوسپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اورجسٹس منیب پرمشتمل تین رکنی بنچ نے پانی کی قلت کے پیش نظر ملک میں ڈیموں کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔

(جاری ہے)

اس موقع پر درخواست گزار وطن پارٹی کے سربراہ بیرسٹرظفراللہ نے عدالت میںپیش ہوکرموفف اپنایا کہ پہلے تمام صوبوں نے کالا باغ ڈیم پر اتفاق کیا تھا تاہم بعد میں اس ڈیم کی تعمیر پراختلافا ت پیدا ہوگئے جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں ہے اس لئے ہم نے سابق چیرمین واپڈا شمس الملک اور اعتزاز احسن کو اس کیس میںمعاونت کرنے کاکہا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا پانی کے بغیر پاکستان کی بقا ممکن ہی ، ہرجگہ پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح خطر ناک حد تک گر چکی ہے، اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ پانی کے مسئلے کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں ، چیف جسٹس نے کہا کہ میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ میں یہاں کالا باغ ڈیم کی نہیں پاکستان ڈیم کی بات کررہا ہوں، پاکستان ڈیم نہیں بنائے گا تو سوچ لیں کہ 5 سال بعد ملک میں پانی کی صورتحال کیا ہوگی۔

چیف جسٹس نے کہاکہ ڈیمز پاکستان کی بقا کے لئے نہایت ضروری ہیں، جس پرچاروں بھائیوں میں اتفاق ہونا چاہئے، ہمیں ڈیمز بنانے کیلئے قربانی دینا ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ جب زمین بنجر ہوگی تو کسان مقروض ہو جائے گا، اس صورتحال کے پیش نظر ہمیں جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا، اس سنگین معاملے پرلوگوں کو اکٹھا کیا جائے تاکہ ان کی تجاویز آئیں، ہم سب کو مل بیٹھ کر اس ایشو کاحل سوچنا ہوگا۔

سماعت کے دوران ڈیموں کے معاملے پرعدالتی معاون اعتزاز احسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ڈیموں کے مخالفین سے بھی بات کرنا ہوگی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ جو ڈیم متنازعہ نہیں پہلے ان پر فوکس کیا جائے ۔۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سابق ادوار میں ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے کچھ نہیں ہوا، بتایا جائے کہ سابق حکومتوں نے گزشتہ دس سال میں ڈیموں کی تعمیر کیلئے کیا کیا ہی ۔

انہوں نے کہا کہ ڈیم تو ہر حال میں بنا نا ہوں گے ،لیکن دیکھنایہ ہے کہ ڈیمز کن جگہوں پر بنیں گے، مجھے مسئلے کا حل بتایا جائے ، جب تک مسئلے کا حل نہیں نکلتا میں نے آپ لوگوں کو جانے نہیں دینا، عدالت کو ماہرین کے نام بتائے جائیں ، میں سب کو بلا کر بٹھائوں گا تاکہ کم از کم اس مسئلے پر گفت و شنید شروع کی جاسکے،،سماعت کے دوران سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک نے پیش ہوکر عدالت کو بتایا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ڈیم بنانا چیف جسٹس کا کام نہیں، لیکن میرا کہنایہ ہے کہ چیف جسٹس کے علاوہ کوئی دوسرا انصاف نہیں کرسکتا، انہوں نے کہا کہ دنیا میں کل 46 ہزار ڈیم تعمیر ہو چکے ہیں جن میں سے صرف چین میں 22 ہزار ڈیم بنائے گئے ہیں، چین کا تھری گارجیز نامی ڈیم 30 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے جبکہ بھارت اب تک 4500 ڈیم تعمیر کرچکا ہے۔

لیکن یہاں کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ کہ چاروں بھائیوں کو ڈیمز کی تعمیر کیلئے قربانی دینا ہوگی،ہم نے پانی کے مسئلے کو حل کرنا ہے، کیونکہ ڈیمزپاکستان کی بقا کیلئے نہایت ضروری ہیں، ہمیں ہنگامی بنیادوں پر اس معاملے پرکام کرنا ہوگا۔بعدازاں مزید سماعت غیرمعینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردی گئی ۔