سی پیک منصوبے کے بعد چین پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے، اس وقت 22 ہزار پاکستانی طلباء چین میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، یہ تعداد امریکہ اور برطانیہ میں پڑھنے والے پاکستانی طالب علوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے

پاکستان میں چین کے سفیر لی جیانگ ژائو کا پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے زیراہتمام بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ’’جیو اکنامک رابطہ اور جنوبی ایشیاء‘‘ سے خطاب

بدھ جون 21:42

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) پاکستان میں چین کے سفیر لی جیانگ ژائو نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبے کے بعد چین پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے، اس وقت 22 ہزار پاکستانی طلباء چین میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، یہ تعداد امریکہ اور برطانیہ میں پڑھنے والے پاکستانی طالب علوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے زیراہتمام دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ’’جیو اکنامک رابطہ اور جنوبی ایشیاء‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ دو روزہ کانفرنس کے پہلے دن تین سیشن ہوئے جس میں کانفرنس کی صدار ت پاکستان میں چین کے سفیر لی جیانگ ژائو نے کی جبکہ سابق وزیر خارجہ انعام الحق، سابق سیکرٹری خارجہ عزیز احمد خان اور پروفیسر سدھیر کلکرنی نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

کانفرنس میں ملک بھر سے تعلیمی اور صحافتی و معاشی ماہرین نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے اس اقدام کا تسلسل تھا جس میں سی پیک کی مختلف جہتوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسمعیل خان نے پہلے سیشن کا آغاز کیا اور کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کئے۔ چینی سفیر نے شرکاء کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کا عنوان اس وقت کی ضرورت ہے، رابطہ اور تعاون اس خطے کے ممالک کے لئے لازمی ہے، ان کا خواب ہے کہ وہ ایک دن اسلام آباد سے کراچی پانچ گھنٹے بلٹ ٹرین پہ سفر کرکے پہنچیں، وہ چاہتے ہیں کہ ان کا خواب ہے کہ ایک مسافر اگر ناشتہ اسلام آباد میں کرتا ہے تو وہ پانچ گھنٹے بلٹ ٹرین سے سفر کرکے دوپہر کا کھانا کراچی میں کھا سکے۔

وہ کہتے ہیں کہ میرا خواب پورا ہونا کوئی مشکل نہیں ہے۔ انہوں نے چین میں بلٹ ٹرین منصوبوں کا ذکر کیا، سال 2013ء میں صدر شی جن پنگ نے سلک روڈ کا منصوبہ پیش کیا۔ ساؤتھ ایشیا اس منصوبے کا اہم رکن تھا۔ چین پاک اکنامک راہداری اور دیگر ملحقہ منصوبے اس کا حصہ ہیں۔ پانچ سال بعد آج یہ وژن حقیقت میں بدل رہا ہے۔ اور جنوبی ایشیا اس کا گواہ ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے خطہ کے ممالک کی ترقی ممکن ہوگی۔

اس منصوبے کے ذریعے پاکستان ایشیائ کا اکنامک ٹائیگر بننا ممکن ہوسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ چینی کہاوت ہے۔ امیر ہونا ہے تو سڑک بناؤ، بہت امیر ہونا ہے تو ریل بناؤ بہت ہی زیادہ امیر ہونا ہے تو بلٹ ریل بناؤ۔جب گوادر پورٹ پانچ سال کے لئے سنگا پور کے پاس تھی تو گروتھ کی رفتار آہستہ تھی ، جب اس کا انتظام چین کے پاس گیا ہے تو ترقی کی رفتار تیز ہوگئی ہے سی پیک سے 70 ہزار نوکریاں پیدا ہوئی ہیں۔

توانائی کے شعبے میں 13 بلین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری ہوئی ہے ، پچھلے 4 سال سے چین کی ایف ڈی آئی پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔ سی پیک سے پہلے چین کی ایف ڈی آئی پاکستان میں تیرہویں نمبر پہ تھی۔ آج یہ پہلے نمبر پہ ہے۔ سپیشل سلک روٹ سکالر شپ، سیاحت ،،فلم اینڈ ٹی وی سیمنار ، تھنک ٹینکس میں اضافہ سی پیک کی وجہ سے ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک سے نہ صرف ٹریڈ اینڈ انوسمنٹ میں اضافہ ہوا ہے۔

2010ء میں 2 ہزار پاکستانی طالبعلم موجود تھے۔ 2016 میں یہ تعداد 22 ہزار تک پہنچ چکی تھی۔ جبکہ یو ایس میں پاکستانی طلبہ کی تعداد 5 ہزار ہے۔ یوکے میں پاکستانی طلبہ کی تعداد 14 ہزار ہے۔ چین پاکستان کو تعلیمی اسکالر شپ دینے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ انہوں نے چین کا دیگر ممالک سے تقابل کرتے ہوئے بیان کیا کہ چینی سیاحت کی تعداد ، چینی سرمایہ کاری کی رقم جنوب ایشیائی ممالک میں دیگر ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اس کانفرنس سے شرکاء کو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ بھارت سے آئے مہمان سدھیرگلکرنی ایڈوائزر فورم فار نیوساؤتھ ایشیاء چین نے کہا کہ خراسان سے اراکان کو جوڑنے کے لئے چین کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ پاک بھارت جیو اسٹرٹیجک ، جیو اکنامک ، جیو سیولائزیشن مفادات ایک جیسے ہیں۔ بلٹ اینڈ روٹ منصوبہ نہ صرف چین کی ترقی ہے بلکہ یہ جنوب ایشیاء اور انسانیت کی ترقی ہے۔

صدر شی دنیا بھر کے سمجھدار اور وڑنری لیڈر ہیں۔ ان کی سوچ کو پوری دنیا کے ترقی پسند اور امن پسند احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ ایک انقلابی منصوبہ ہے۔ بھارت نے ابھی تک اس منصوبے کو قبول نہیں کیا لیکن بھارت اس منصوبے کی سوچ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ وزیر اعظم مودی بیجنگ میں کہہ چکے ہیں کہ بھارت ایس سی او ممالک سے زمینی رابطہ ممکن بنانا چاہتا ہے۔

بھارت پاکستان اور چین کو بائے پاس نہیں کرسکتا۔ اسی طرح پاکستان علاقائی رابطے کے لئے بھارت کو بائی پاس نہیں کر سکتا۔ جنوبی ایشیاء دنیا کا سب سے گنجان آباد علاقہ ہے۔ سی پیک ایک گیم چینجر ہے۔ ترقی یافتہ پاکستان بھارت کے مفاد میں ہے۔ اسی طرح ترقی یافتہ بھارت پاکستان کے مفاد میں ہے۔ سی پیک کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اگر بھارت اس میں شامل نہ ہو۔

اس کا نام بدلا جا سکتا ہے اس میں افغانستان کو بھی شامل کیا جانا چاہیئے۔ اس منصوبے کی کامیابی سے کشمیر کا مسئلہ بھی حل کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ، سابق سفیر سرور نقوی، ڈاکٹر خالدہ غوث، امتیاز فیروز گوندل ، عزیز احمد خان، یوبراج سندھولا، پروفیسر وانگ شو، بیرسٹر شہزاد اکبر سابقہ سپیشل پراسیکیوٹر نیب پروفیسر فضل الرحمن اسٹرٹیجک اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی ، افراسیاب خٹک سابقہ سینیٹر ، تاج حیدر سابقہ سینیٹر بھی گفتگو میں شامل تھے۔ کانفرنس پہلے روز کے اختتام پر ڈائریکٹر پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز عامر رانا نے مہمانوں میں اعزای شیلڈز تقسیم کئے۔ سیشن کے اختتام پہ گروپ فوٹو بھی بنایا گیا۔