ریاض اختر کی کتاب ’’عورت کہانی ‘‘ کی تقریب رونمائی

بدھ جون 21:46

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام ریاض اختر کی کتاب ’’عورت کہانی ‘‘ کی تقریب رونمائی نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت مورخ و دانشور ڈاکٹر مبارک علی نے کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کتاب میں جتنی تہذیبیں گزری ہیں ان میں عورت کے کردار اور مقام کے حوالے سے ریاض اختر نے بہترین الفاظ میں لکھا ہے۔

یونان کی تاریخ میں عورت کو بازار تک نہیں جانا دیا جاتا تھا۔ عورت کو تاریخ سے غائب کیا گیا۔ اسی طرح ہندوستان میں اگر خاوند وفات پا جاتا تو عورت کو اس کے ساتھ زندہ جلا دیا جاتا یا دفن کر دیا جاتا۔ اس کے بعد ہندوستان کی تاریخ میں تبدیلیاں آئیں۔ انہوں نے کہا کہ عورت کے اندرآزادی کے جذبے کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔

(جاری ہے)

تاریخ میں مردوں کے حوالے سے کتابیں لکھی گئیں مگر عورتوں کے حوالے سے بہت کم کتابیں لکھی گئیں۔

ریاض اختر کی کتاب کئی تہذیبوں میں عورتوں کے زندگی گزارنے اور حقوق کے حوالے سے بہترین عکاسی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات لوگ محنت کرکے کتاب لکھتے ہیں مگر اس کو چھپوانے میں ناکام رہتے ہیں۔ ریاض اختر نے کتاب کو خوبصورت طریقے سے لکھا ہے۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کتاب کے مصنف ریاض اختر نے کہا عورت خود ہی اپنی تاریخ سے آگاہ نہیں میں نے کتاب لکھنے سے پہلے نامور خواتین کو خطوط لکھے مگر کسی نے جواب نہ دیا صرف ایک خاتون سابق رکن قومی اسمبلی کشور ناہید نے رابطہ کیا اور کتاب میں عورت کی جنسیات کے عنوان کو الگ کرنے کا مشورہ دیا تو ان کے مشورے کے مطابق میں ان اس عنوان کو کتاب سے نکال دیا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے سوچا جن کے بارے میں کتاب لکھ رہا ہوں وہ تعاون نہیں کر رہیں مگر پھر بھی کتاب لکھ دی۔ معاشرے کی پرانی تہذیبوں سے لے کر آج تک عورت کے حقوق، معاشرے میںرہن سہن اور مختلف معاشروں پر عورتوں پر ظلم و ستم کو پرانی تاریخوں اٹھا کر لکھا ہے۔ اس موقع پر نیشنل پارٹی کے رہنما ایوب ملک نے ریاض اختر کی عورت کہانی کے عنوان سے لکھی گئی کتاب کے حوالے سے کہا کہ کتاب کو میں نے پڑھا ہے اس میں معاشرے میں عورتوں کے کردار سے لے کر دیگر تمام ضروری چیزوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تقریب سے آغا عبدالستار، محترمہ نائلہ روبی، فوزیہ شاہد اور ندیم عمر تاررڑ نے بھی خطاب کیا اور مصنف ریاض اختر کی کتاب عورت کہانی کو زبردست الفاظ میں پذیرائی کی گئی۔