کوئٹہ ، پاکستان مائنز ورکرز فیڈریشن (رجسٹرڈ) کے زیر اہتمام ایک روزہ سیمینار

کول مائن ورکرز کی جانوں کی حفاظت کیلئے موثر حکومتی اقدامات کی ضرورت" کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں مائن ورکرز کی صحت وسلامتی کے حوالے سے قابل عمل تجاویز پیش کی گئیں

بدھ جون 22:44

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) پاکستان ورکرز کنفیڈریشن بلوچستان((رجسٹرڈ) اور پاکستان مائنز ورکرز فیڈریشن (رجسٹرڈ) کے زیر اہتمام ایک روزہ سیمینار بموضوع" کول مائن ورکرز کی جانوں کی حفاظت کیلئے موثر حکومتی اقدامات کی ضرورت" پریس کلب کوئٹہ میں منعقد کیا گیا۔سیمینار سے چیئرمین مائن اونر ز ایسوسی ایشن حیدرآباد مائن میر عبدالصمد رئیسانی،مائن اونر عباس میر ، میر بہروز بلوچ اورسردار قربان علی جوگیزئی، سینئر انسپکٹر آف مائنز عبدالغنی بلوچ، انسپکٹر آف مائنز کوئٹہ ڈویژن محمد عاطف ہزارہ، پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کے جنرل سیکریٹری عبدالمعروف آزاد، جوائنٹ سیکریٹری عبدالحئی، پاکستان ورکرز فیڈریشن بلوچستان کے صدرحاجی عزیزاللہ ، صدر سینٹرل مائنز لیبر یونین (سی بی ای) ملک بخت نذر، صدرپاکستان مائنز ورکرز فیڈریشن حاجی نور محمد اورجنرل سیکریٹری سرزمین افغانی نے خطاب کرتے ہوئے موضوع پر اظہار خیال کیا۔

(جاری ہے)

سیمینار میں مائن ورکرز کی صحت وسلامتی کے حوالے سے قابل عمل تجاویز پیش کی گئیں کہ حکومت فوری طور پر ویئر ہائوس کا قیام عمل میں لائے جس میں مائنز میں استعمال ہونے والے آلات ، گیس ٹیسٹر، زہریلی گیسز کی نشاندہی کرنے والے آلات، حفاظتی ماسک، فلیم پروف الیکٹرک موٹر، الیکٹرک پمپس اور فلیم پروف سوئچزکی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کوئلے کی کانوں میں میتھین گیس کے دھماکوں کا سد باب کیا جاسکے، مائن ورکرز میں شعور و آگاہی پیدا کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کوئلے کی کانوں پر جاب ٹریننگ پروگرام شروع کیا جائے، سیفٹی قوانین پر موثر عملدرآمد کیلئے مائنز ایکٹ1923-ء کی دفعہ 10کے تحت مائننگ بورڈ تشکیل دیا جائے اور اس بورڈ کو فعال اور موثر بنایا جائے، صوبائی ، ضلعی اورمائننگ فیلڈ کی سطح پر ہیلتھ اینڈ سیفٹی کیلئے سہ فریقی کمیٹیاں تشکیل دی جائیںتاکہ قواعدوضوابط اور مائنز ایکٹ کی دفعات پر موثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جاسکے اور سرکاری متعلقہ محکموں، مائن اونرز ایسوسی ایشن اور مائن ورکرز کی سی بی اے اسٹیٹس کی حامل تنظیموں کا رابطہ مضبوط کیا جائے تاکہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قوانین پر موثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جاسکے۔

سیمینار کے شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ دیگر تینوں صوبوں میں ڈیتھ گرانٹ پانچ لاکھ روپے مقرر ہے جبکہ صوبہ بلوچستان میں 1999ء سے دولاکھ روپے مقرر ہے دیگر صوبوں کی طرح صوبہ بلوچستان میں بھی مائننگ سیکٹر میںڈیتھ گرانٹ کم از کم پانچ لاکھ روپے مقرر کی جائے۔

متعلقہ عنوان :