پاکستان تحریک انصاف یا مسلم لیگ ن،این اے 145 کی عوام نے فیصلہ سنا دیا

مسلم لیگ ن 60 فیصد ووٹرز کی حمایت حاصل کرکے اس حلقے کی طاقتور ترین سیاسی جماعت ہے جبکہ تحریک انصاف کو 34 فیصد ووٹرز کی حمایت کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس بدھ جون 20:52

پاکستان تحریک انصاف  یا مسلم لیگ ن،این اے 145 کی عوام نے فیصلہ سنا دیا
پاکستان تحریک انصاف  یا مسلم لیگ ن،این اے 145 کی عوام نے فیصلہ سنا دیا۔ مسلم لیگ ن 60 فیصد ووٹرز کی حمایت حاصل کرکے اس حلقے کی طاقتور ترین سیاسی جماعت ہے جبکہ تحریک انصاف کو 34 فیصد ووٹرز کی حمایت کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میں اس وقت ہر جگہ الیکشن کے چرچے ہیں۔ایک جانب عوام الیکشن 2018 کے انتخابات پر نظریں لگائے بیٹھے ہیں تو دوسری جانب سیاسی پنڈت بھی اس الیکشن کو پاکستان کی پارلیمانی سیاست کا اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مسلسل تیسری مرتبہ انتقال اقتدار کا مرحلہ جمہوری طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے۔الیکشن تو 25 جولائی کو ہی انعقاد پذیر ہوں گے مگر انتخابی معرکے کا زور کس کے سر رہے گا اس پر چہ میگوئیاں ابھی سے شروع ہو چکی ہیں۔

(جاری ہے)

ہر سیاسی پہلوان اپنے مخالف کو سیاسی میدان میں شکست دینے کے لیے بیتاب ہوچکا ہے۔

اس حوالے سے مختلف حلقوں میں سروے بھی کروائے جارہے ہیں۔اہم ترین حلقوں میں ہونے والے سروے انتخابات کے نتائج کے حوالے سے ایک عمومی اندازہ بھی پیش کررہے ہیں جس سے صورتحال واضح ہو رہی ہے کہ کس علاقے میں کس امیدوار کی سیاسی ساکھ زیادہ تگڑی ہے۔اس حوالے سے اہم ترین حلقے این اے 145 میں کئیے گئے سروے نے سیاسی پنڈتوں میں ہلچل پیدا کردی ہے۔این اے 145 پاکپتن کا وہ اہم ترین حلقہ ہے جہاں سے پاکستان تحریک انصاف چھوڑ کر مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرنے والے احمد رضا مانیکا سیاسی و انتخابی میدان میں اتر رہے ہیں۔

نجی کی جانب سے کئیے گئے سروے کے مطابق اس حلقے میں مسلم لیگ ن کی پکڑ مضبوط ہے۔۔مسلم لیگ ن 60 فیصد ووٹرز کی حمایت حاصل کرکے اس حلقے کی طاقتور ترین سیاسی جماعت ہے جبکہ تحریک انصاف کو 34 فیصد ووٹرز کی حمایت کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ دیگر پارٹیوں کو اس حلقے کے 6 فیصد ووٹرز کی حمایت رکھتی ہیں۔گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں اس الیکشن میں مسلم لیگ ن کی مقبولیت کا گراف اوپر گیا ہے اور پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔