حیدرآباد، وائس فار مسنگ پرسن آف سندھ کا جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے علامتی بھوک ہڑتال چوتھے روز بھی جاری رہی

بدھ جون 23:09

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) وائس فار مسنگ پرسن آف سندھ کی جانب سے جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے شروع کی گئی سات روزہ علامتی بھوک ہڑتال چوتھے روز بھی جاری رہی ، اس موقع پر وائس فار مسنگ پرسن آف سندھ کی کنوینر سورٹھ لوہار، ڈپٹی کنوینر سندھو امان چانڈیو، جامی چانڈیو ،تاج جویو ، شنکر لول مالہی ،جسقم آریسر گروپ کے قائم مقام چیئر مین امیر آزاد پنہو ر ،تنو یر آریجو اور نیلم آریجوسمیت لاپتہ افراد کے ورثاء بڑی تعداد میں بھوک ہڑتالی کیمپ پر موجود تھے جبکہ ادبی سنگت کے رہنما بخشل باغی ،غلام نبی زئنور،حاجی انور زئنور،لطیف جروار،ماما ڈاہری ،کامریڈ اقبال،جئے سندھ تحریک کے سید آفتاب شاہ ،روشن سندر چانڈیو اور جمشید ہنگورو سمیت دیگر سیاسی و سماجی رہنمائوں سمیت سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھوک ہڑتالی کیمپ پر پہنچ کر لاپتہ افارد کے ورثاء سے یکجہتی کا اظہار کیا ، اس موقع پر رہنما ئو ں نے کہا کہ ملک کے شہر یو ں کو گھر وں سے اٹھا کر جبر ی لا پتہ کر نا ملک کے آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہی نہیں بلکہ عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے ،انہو ںنے کہا کہ ہم سندھ سے لا پتہ کیئے گئے شہریو ں کی با زیا بی کیلئے پر امن احتجاج کر رہے ہیں لیکن موجود ہ حکمر انو ں اور عدالتوں کی جانب سے اب تک گمشدہ افراد کی با زیا بی کیلئے کوئی خاطر خو اہ کر دار ادا نہیں کیا گیا ہے جو کہ قابل مذمت عمل ہے ،انہو ںنے سندھ کی تمام سیا سی جما عتو ں ،انسانی حقوق کی تنظیمو ں ،ادیبو ں اور سما جی رہنما ئو ں سے اپیل کی کہ ہماری تحر یک کا حصہ بن کر سات روزہ شروع کی گئی بھو ک ہڑ تا ل میں بھر پو ر شرکت کرکے لا پتہ افراد کی با زیا بی کیلئے اپنا کر دار ادا کر یں ۔