سپریم کورٹ کا 15 روز میں گریڈ 17 اور اس سے اوپر گریڈ کے افسران کی دوہری شہریت کا ڈیٹا نادرا کے حوالے کرنے حکم

عدالت کی ڈی جی ایف آئی اے کو مقررہ تاریخ تک دوہری شہریت کا بیان حلفی جمع نہ کرانیوالوں کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت

بدھ جون 23:19

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) سپریم کورٹ نے سرکاری افسران اورججوں کی دوہری شہریت بارے کیس میں تمام سرکاری اور خودمختار اداروں کے سربراہان اور سیکرٹریز کو 15 روز میں گریڈ 17 اور اس سے اوپر گریڈ کے افسران کی دوہری شہریت کا ڈیٹا جمع کر کے نادرا کے حوالے کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مقررہ تاریخ تک دوہری شہریت کا بیان حلفی جمع نہ کرانیوالوں کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائیگی۔

بدھ کوچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔۔سماعت کے موقع پرڈی جی ایف آئی نے عدالت کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک ایک لاکھ 18ہزار افسران نے اپنا ڈیٹا جمع کرایا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سرکاری ملازمین میں 179 افسران دوہری شہریت کے حامل ہیں جبکہ 8اعلیٰ افسران دوہری شہری رکھتے ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ 255 افسروں کی بیویاں دوہری شہریت کی حامل ہیں۔۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ دوہری شہریت کے اعداد و شمار کا مقصد کسی کیخلاف کارروائی کرنا نہیں ہے ، قانون میں دوہری شہریت رکھنے پر کوئی قدغن نہیںہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دوہری شہریت کے حامل افسران کا ڈیٹا اکٹھا کر کے حکومت کو بھجوائینگے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ تمام سرکاری اور خودمختار اداروںکے سربراہان اور سیکرٹریز 15 روز میں گریڈ 17 اوراس سے اوپرکے افسران کی دوہری شہریت کا ڈیٹا جمع کر کے نادرا کے حوالے کریں۔

عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ مقررہ تاریخ کے اندر دوہری شہریت کا بیان حلفی جمع نہ کرانیوالوں کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ۔بعدازاں مزید سماعت 15 دن تک کیلئے ملتوی کر دی گئی۔