پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو انتخابی جلسے کرنے سے روکا جا رہا ہے، سینیٹر تاج حیدر

ہمارا الیکشن سیل الیکشن سے پہلے دھاندلی اور پارٹی امیدواروں کے راستے میں مشکلات کھڑی کئے جانے بارے دن رات کام کریگا،ہمیں دولتمندوں ،منتخب ہونے کی اہل شخصیات کی سیاست سے نکل کر عام آدمی، غریب، مزدور کی سیاست اور مسائل کے حل کی سیاست کی طرف رخ کرنا ہو گا ورنہ نتائج خطرناک برآمد ہونگے،آئندہ انتخابات کیلئے (آج) انقلابی منشور جاری کرینگے ،منشور میں سرائیکی صوبہ کے قیام کو نمایاں حیثیت دے رہے ہیں،یوسف رضا گیلانی کو جلسے کرنے سے روکنا قابل مذمت ہے، پارٹی رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس

بدھ جون 23:21

پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو انتخابی جلسے کرنے سے روکا جا رہا ہے، سینیٹر ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سابق سینیٹر تاج حیدر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو انتخابی جلسے کرنے سے روکا جا رہا ہے، ہمارا الیکشن سیل الیکشن سے پہلے دھاندلی اور پارٹی امیدواروں کے راستے میں مشکلات کھڑی کئے جانے کے حوالے سے دن رات کام کریگا،بعض حلقوں کی طرف سے سیاست کو نیچے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، ہمیں دولت مندوں اور منتخب ہونے کی اہل شخصیات کی سیاست سے نکل کر عام آدمی، غریب،، مزدور کی سیاست اور مسائل کے حل کی سیاست کی طرف رخ کرنا ہو گا ورنہ اس کے نتائج بہت خطرناک برآمد ہوں گے،آئندہ انتخابات کیلئے (آج) انقلابی منشور جاری کرینگے ،اپنے منشور میں سرائیکی صوبہ کے قیام کو نمایاں حیثیت دے رہے ہیں،،یوسف رضا گیلانی کو جلسے کرنے سے روکنا قابل مذمت ہے۔

(جاری ہے)

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء سینیٹر تاج حیدر نے یہ بات بدھ کو پاکستان پیپلز پارٹی میڈیا سیل میں بیرسٹر عامر حسن، نذیر ڈھوکی اور چودھری لطیف اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔ اس موقع پر انہوں نے سات رکنی سنٹرل الیکشن سیل کا بھی اعلان کیا۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو انتخابی جلسے کرنے سے روکا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن سے پہلے دھاندلی اور پارٹی امیدواروں کے راستے میں مشکلات کھڑی کئے جانے کے حوالے سے سنٹرل الیکشن سیل دن رات کام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سیل کا قیام چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات پر عمل میں لایا گیا ہے جو انتخابی امیدوار کو انتخابی مہم چلانے میں بھرپور تعاون فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سیل میں میرے سمیت لطیف کھوسہ،، نذیر ڈھوکی، لطیف اکبر، لال بخش بھٹو، بیرسٹر عامر حسن، سینیٹر رخسانہ زبیری کو شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیل نے یہ بات محسوس کی ہے کہ بعض حلقوں کی طرف سے سیاست کو نیچے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، ہمیں دولت مندوں اور منتخب ہونے کی اہل شخصیات کی سیاست سے نکل کر عام آدمی، غریب،، مزدور کی سیاست اور مسائل کے حل کی سیاست کی طرف رخ کرنا ہو گا ورنہ اس کے نتائج بہت خطرناک برآمد ہوں گے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ الیکشن لڑنا صرف ایسے لوگوں کا حق ہے جو دولت مند ہیں اور الیکشن جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یہ تاثر دینا الیکشن سے پہلے دھاندلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس کے علاوہ الیکشن کی حلقہ بندیاں جس طرح سے کی گئی ہیں ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ الیکشن کو کس طرف لے جایا جا رہا ہے، الیکشن کو پرتشدد بنانے کیلئے کوششیں ہو رہی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارٹی کے قیام کے وقت بھٹو نے واضح کر دیا تھا کہ تانگے والے غریب اور مزدور ہی پارٹی کا اثاثہ ہیں اور کل یہی لوگ ملک کو چلائیں گے، پیپلز پارٹی نظریاتی جماعت ہے، یہ ملکی سیاست پر یقین رکھتی ہے، پیپلز پارٹی آئندہ انتخابات کیلئے جمعرات کو انقلابی منشور جاری کرے گی جس کے بعد ملکی سیاست کے دھارے میں تبدیلی آئے گی، ہم اپنے منشور میں سرائیکی صوبہ کے قیام کو نمایاں حیثیت دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نہ ہم گالم گلوچ کی سیاست کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ خاقان عباسی کی تاحیات نااہلی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے ان کو کہا تھا کہ آپ انتخابی شق کو 73ء کے آئین کے مطابق بنائیںمگر اس وقت انہوں نے بات نہ مانی بلکہ مجھ پر یہ الزام لگایا کہ ہم الیکشن کو مؤخر کرانا چاہتے ہیں، آج شاید پہلی بار ان پر ایسا وقت آیا ہے تو چیخیں نکل رہی ہیں، ہم تو ان حرکات کا ہمیشہ شکار رہے بلکہ سزائیں ہمیں پہلے سنائی گئیں اور مقدمے بعد میں چلائے گئے۔

تاج حیدر نے کہا کہ کراچی میں نسلی بنیادوں پر انتخاب کرائے جا رہے ہیں، الیکشن کمیشن کی واضح ہدایات کے باوجود سندھ میں 137 آر اوز کے تبادلے کئے گئے پھر بھی الیکشن کمیشن خاموش ہے، شہباز شریف جس حلقہ کا الیکشن لڑنے جا رہے ہیں وہاں الطاف حسین کی تصویریں جگہ جگہ آویزاں کی گئی ہیں، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں سے درخواست ہے کہ حالات کو بگڑنے سے بچانے کیلئے اقدامات کریں، سندھ میں کوئی حلقہ بنا اور نہ ہی کوئی سیٹ کم ہوئی مگر آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں ترقیاتی کاموں کی بنیاد پر الیکشن لڑ رہے ہیں، کینسر، گردوں اور دیگر بیماریوں کے علاج کے ہسپتال بنائے گئے ہیں جہاں افغانستان سمیت دور دراز سے لوگ علاج کیلئے آتے ہیں، تھرپارکر میں لگائے گئے منصوبوں سے تبدیلی آ رہی ہے، تھرکول منصوبہ سے بجلی سستی فراہم کی جائے گی، اس منصوبہ میں 110 ملین ڈالر کی بچت کی گئی ہے، حکومت کو ایلیویٹڈ ٹریکس نہ بنانے کا مشورہ دیاہے، ترک کمپنیوں کو کام دیا گیا ہے، ترکی میں اس طرح کے منصوبے نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کو جلسہ کرنے سے روکنا قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کو سرائیکی صوبہ کو منشور میں شامل کرنے پر انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے، انہیں وزیراعظم سے ہٹایا گیا مگر انہوں نے عدالتی فیصلہ کو قبول کرتے ہوئے یہ نہیں کہا کہ مجھے کیوں نکالا۔