لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاون استغاثہ میں نواز شریف ،شہباز شریف سمیت بارہ شخصیات کو طلب کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

بدھ جون 23:28

لاہور۔27 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاون استغاثہ میں نواز شریف ،،شہباز شریف سمیت بارہ شخصیات اور اعلی سرکاری افسران کو طلب کرنے کی درخواست پر فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

(جاری ہے)

جسٹس قاسم علی خان کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاون سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت کی،عوامی تحریک نے انسداددہشتگردی کی خصوصی عدالت کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت بارہ حکومتی اور اعلی سرکاری شخصیات کو استغاثہ میں طلب نہ کرنے کے احکامات کو لاہور ہائیکورٹ کے روبرو چیلنج کر رکھا تھا،پراسیکیوٹر جنرل پنجاب احتشام قادر نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ میں فرد جرم عائد ہو چکی ہے اور شہادتیں ریکارڈ کی جا رہی ہیں،،عدالت نے ادارہ منہاج القرآن کے وکیل سے استفسار کیا کہ سیاست دانوں کے خلاف ایسا کیا مواد تھا جسے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نظر انداز کر کے ان کو طلب نہیں کیا،ادارہ منہاج القرآن کے وکیل نے آگاہ کیا کہ سانحہ ماڈل ایک سازش تھی جس کو استغاثہ کی کارروائی مکمل ہونے تک بے نقاب نہیں کیا جا سکتا، ادارہ منہاج القرآن کی جانب سے دوران سماعت عدالت میں اہم شواہد عدالت میں جمع کرائے گئے، سابق آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیاکہ انہیں استغاثہ میں بلاجواز ملوث کیا گیا ان کاسانحہ ماڈل ٹاون سے کوئی تعلق نہیں،جس پر عدالت نے استفسار کیاکہ آگاہ کیا جائے کہ وقوعہ سے قبل آئی جی پنجاب نے اپنی تعیناتی کا چارج کب سنبھالا، عدالت نے مزید استفسار کیا کہ کوئٹہ سے آپ کو لاہور خصوصی طیارے سے کیوں لایا گیا، کیا بطور آئی جی پنجاب خصوصی طیارے سے سفر استحقاق تھا یا نہیں،عدالتی حکم پرادارہ منہاج القران کے خلاف تجاوزات کی شکایت کے اندراج، وہاں بھیجے گئے پولیس اہلکاروں کی نفری کا ریکارڈ ، مقتولین اور زخمیوں کی فہرست بھی عدالت میں پیش کی گئی،،عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔