سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نااہلی کے بعد جج کو دھمکیاں دینے پر اترآئے

میں دیکھ لوں گا اس جج کوبھی،اس نے میری ذات پر حملہ کیا اب میں بھی اس کے خلاف سرعام ذاتی حملے کروں گا

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس بدھ جون 22:39

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نااہلی کے بعد جج کو دھمکیاں دینے پر ..
اسلام آباد(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-27 جون 2018ء) :سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نااہلی کے بعد جج کو دھمکیاں دینے پر اترآئے۔ میں دیکھ لوں گا اس جج کوبھی،اس نے میری ذات پر حملہ کیا اب میں بھی اس کے خلاف سرعام ذاتی حملے کروں گا۔تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو ان کے آبائی حلقے این اے 57 مری سے تاحیات نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نااہلی کے بعد جج کو دھمکیاں دینے پر اترآئے۔نجی ٹی وی پر بات چیت کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ میں دیکھ لوں گا اس جج کوبھی،اس نے میری ذات پر حملہ کیا اب میں بھی اس کے خلاف سرعام ذاتی حملے کروں گا۔میں تو یہ کہوں گا کہ الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ اس شخص کو نااہل کرے جو الیکشن کوہی مشکوک بنانے پر تلا ہوا ہے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان کیا۔انکا کہنا تھا کہ میرے خلاف جوفیصلہ کیا گیا ہے وہ کس قانون کے تحت کیا گیا۔۔الیکشن کومتنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔تمام چیزیں واضح لکھی ہیں کوئی ابہام نہیں۔1974میں میرے والد نے تین لاکھ میں گھرلیا تھا اوروہی قیمت میں نے کاغذات نامزدگی میں ظاہر کئیے تھے۔یاد رہے کہ راولپنڈی کے الیکشن ایپلٹ ٹریبونل کے جج جسٹس عباد الرحمان لودھی نے پی ٹی آئی کارکن مسعود احمد عباسی کی جانب سے شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف دائر اپیل پر سماعت مکمل کرکے دو روز قبل اس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

اعتراض کنندہ نے مؤقف اپنایا تھا کہ شاہد خاقان عباسی نے ریٹرننگ افسر کو دیئے گئے ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کی اور جائیداد کی درست تفصیلات نہیں بتائیں۔اعتراض کنندہ کے مطابق شاہد خاقان عباسی نیلارنس کالج کے جنگل پر قبضہ کر رکھا ہے ،ْ ان کے کاغذات میں ایف سیون ٹو میں مکان کی ملکیت بھی کاغذات نامزدگی میں کم لکھی گئی ہے، کاغذات نامزدگی میں پہلے 100 روپے والا اسٹامپ پیپر لگایا گیا اور بعد ازاں 500 روپے والا پیپر لگایا گیا ،ْالیکشن ایپلٹ ٹریبونل نے درخواست گزار کے تمام اعتراضات کو منظور کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے تھے۔