دیر تک کام کا معمول ملازمت پیشہ خواتین میں ذیابیطس کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے، طبی ماہرین

بدھ جولائی 11:00

دیر تک کام کا معمول ملازمت پیشہ خواتین میں ذیابیطس کے امکانات کو بڑھا ..
ٹورانٹو ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جولائی2018ء) کینیڈا کے ماہرین صحت نے کہا ہے کہ دفاتر یا کارخانوں میں زیادہ دیر تک اور طویل مدت کے لیے کام کا معمول ذیابیطس جیسے مرض کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔طویل اور صبرآزما مطالعے میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ہفتے میں 45 گھنٹے سے زائد کام کرنے کی مسلسل عادت ذہنی و جسمانی دباؤ، پریشانی اور فکر کو جنم دے کر کئی امراض کی وجہ بنتی ہے جن میں ٹائپ ٹو ذیابیطس سرِ فہرست ہے۔

یہ تحقیق ٹورانٹو کے انسٹی ٹیوٹ آف ورک اینڈ ہیلتھ کی ماہر ڈاکٹر ماہی گلبرٹ اوئمت نے کی جس میں پورے کینیڈا سے 7 ہزار ملازمین اور کارکنوں کے معمولات کا 12 سال تک جائزہ لیا گیا اور اس عرصے میں انہیں لاحق ہونے والے امراض کا جائزہ لیا۔برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کا خلاصہ یہ ہے کہ ہفتے میں 45 گھنٹے سے زیادہ کام کرنے والی خواتین میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ 51 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جب کہ 35 سے 40 گھنٹے تک کام میں مصروف عورتوں میں یہ خطرہ قدرے کم ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

اس سروے میں ماہرین نے کام کے علاوہ طرزِ زندگی، غذا، بی ایم آئی اور تمباکو نوشی سمیت دیگر عوامل بھی نوٹ کیے ہیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر مردوں پر اس کا کوئی خاص منفی اثر نہیں ہوتا، یعنی مرد اگر طویل عرصے تک کام کریں تو آگے چل کر ان میں ذیابیطس کا خطرہ اتنا نہیں بڑھتا جتنا خواتین کیلیے بڑھتا ہے۔اگرچہ مردوں پر طویل کام کے منفی اثرات نہ ہونا اپنی جگہ ایک عجیب بات ہے لیکن خواتین کا معاملہ الگ ہوتا ہے۔

انہیں دفتر کے ساتھ ساتھ گھرداری اور بچوں کی دیکھ بھال بھی کرنا پڑتی ہے۔ اسی دوہری مشقت سے ان پر منفی اثرات ہوتے ہیں اور وہ ذیابیطس کی شکار ہوجاتی ہیں۔دوسری جانب مرد اگر زیادہ کام کرتے ہیں تو وہ کام کے دوران چلتے پھرتے اور کھڑے بھی ہوتے ہیں اور خواتین دیر تک بیٹھی رہتی ہیں جس سے ان کے جسم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ زیادہ کام کا مطلب زیادہ ذہنی تناؤ ہوتا ہے جس سے ہارمون بھی متاثر ہوتے ہیں۔

مثلاً فکر اور پریشانی کارٹیسول ہارمون کو متاثر کرتی ہیں جو جسم میں انسولین پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اسی طرح ذہنی تناؤ نیند اور دیگر معمولات کو بھی شدید متاثر کرتا ہے۔ ماہرین نے خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ اگروہ دفاتر میں دیر تک کام کرتی ہیں تو اسے اعتدال پر لانا بہت ضروری ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

متعلقہ عنوان :