سپریم کورٹ میں عطا الحق قاسمی کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت

کمرہ عدالت میں دلچسپ صورتحال۔۔۔چیف جسٹس اور وکیل عائشہ حامد میں تلخی! ’میں خاتون ہوں مجھے کسی دوسرے وکیل کی طرح ٹریٹ نہ کیا جائے‘ عائشہ حامد کے اعتراض پر جانتے ہیں چیف جسٹس نے آگے سے کیا جواب دیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ جولائی 11:17

سپریم کورٹ میں عطا الحق قاسمی کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 04 جولائی 2018ء) : سپریم کورٹ آف پاکستان میں عطا الحق قاسمی کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، میڈیا رپورٹ کے مطابق عدالت میں عطا الحق قاسمی کی وکیل عائشہ حامد پیش ہوئیں۔۔چیف جسٹس نے کہاکہ اٹارنی جنرل نے کل کے دلائل میں عطاءالحق قاسمی کی تعیناتی کو قانون سے منافی قرار دیا۔کیا ایک ڈرامہ نگار اور کہانی نویس کو ایم ڈی پی ٹی وی تعینات کیا جا سکتا ہے؟ کیا عطاء الحق قاسمی متعلقہ معیار پر پورا اُترتے تھے؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ جس آدمی کی صحافت سے متعلق تعلیم اور تجربہ ہی نہیں اسے ایم ڈی پی ٹی وی کیسے تعینات کیا جا سکتا ہے؟ '' خواجہ اینڈ سنز'' اور ''شیدا ٹلی'' ڈرامے لکھنا ان کی اہلیت ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ مقررہ عمر کی حد سے تجاوز کے باوجود ان کی تعیناتی کی گئی۔

(جاری ہے)

جس پر وکیل عائشہ حامد نے کہا کہ عمر میں نرمی کی رعایت عطاءالحق قاسمی کے لیے نہیں تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ خاتون ہونے کا فائدہ اُٹھا رہی ہیں۔ وکیل عائشہ حامد نے کہا کہ مجھے کسی دوسرے وکیل کی طرح ٹریٹ نہ کیا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عطاء الحق قاسمی کو اتنی بھاری تنخواہ اور مراعات بدنیتی کو ظاہر کرتی ہے۔ عطاء الحق قاسمی کو ڈیفیکٹو ایم ڈی کیسے لگایا گیا ؟ وکیل عائشہ حامد نےکہا کہ عطاء الحق قاسمی کی تقرری حکومت کا اختیار تھا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ کہہ رہی ہیں کہ حکومت کے پاس لا محدود اختیار ہے؟ اختیار کسی قانون کے تحت ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔۔عدالت کو اختیار ہے کہ اس کا جائزہ لے کیونکہ یہ عوامی عہدے کا معاملہ ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ہم بے وقوف ہیں؟ انہوں نے کہا کہ عطاء الحق قاسمی کی تقرری میں درجہ وار ایونٹس دیکھیں ، یہ بدنیتی ہے۔ وکیل عائشہ حامد نے کہا کہ میرے موکل نے ایم ڈی کی تعیناتی کے لیے وزیر اعظم کو خط لکھا ۔ عدالت نے کہا کہ جو خطوط آپ دے رہی ہیں ،وہ عطاء الحق قاسمی عدالت میں خود بتا دیں۔ حکومت نے عطاءالحق قاسمی کی تعیناتی میں بدنیتی کر کے قواعد نظر انداز کیے۔ عطاء الحق قاسمی کو فوری طور پر بُلایا جائے۔ عدالت نے عطاء الحق قاسمی کو چار گھنٹوں میں طلب کر لیا۔