قیدیوں کے لیے مختص رقم کی کٹوتی کا اسرائیلی قانون ،اعلانِ کے مترادف جنگ ہے، فلسطینی اتھارٹی

بدھ جولائی 11:20

غزہ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جولائی2018ء) فلسطینی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا ٹیکس کی رقوم سے اٴْس رقم کی کٹوتی کرنے کا فیصلہ جو فلسطینی اتھارٹی اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کو ادا کرتی ہے، درحقیقت اعلانِ جنگ کے مترادف ہے۔العربیہ ٹی وی کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اس خطرناک فیصلے کو یکسر مسترد کرتی ہے اور اسے اوسلو معاہدے سے اب تک تعلق کی بنیادوں کے لیے انتہائی ضرر رساں شمار کرتی ہے۔

(جاری ہے)

ترجمان نے کہا کہ اس فیصلے پر عمل درامد کی صورت میں خطرناک اور دور روس اثرات سامنے آئیں گے۔ اس حوالے سے فلسطینی اتھارٹی کے سامنے تمام تر آپشنز کھلے ہیں جن میں بین الاقوامی فوجداری عدالت اور سلامتی کونسل شامل ہیں۔۔اسرائیل نے فلسطنی اتھارٹی کی مالی سرزنش کے لئے گزشتہ پیر کو ایک قانون منظور کیا۔ قانون اس امر کا متقاضی ہے کہ اسرائیل عبوری امن معاہدوں کے تحت فلسطینیوں کے نام پر ہر ماہ ٹیکس آمدن کی مد میں جو 13 کروڑ ڈالر وصول کرتا ہے اس کا ایک حصّہ روک لیا جائے۔

متعلقہ عنوان :