متحدہ عرب امارات شدید گرمی کی لپیٹ میں

ماہرین کے مطابق گرمی کی شدت میں مزید اضافے کا امکان ہے

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ جولائی 11:32

متحدہ عرب امارات شدید گرمی کی لپیٹ میں
دُبئی( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔4 جُولائی 2018) متحدہ عرب امارات میں گرمی کا موسم ہمیشہ انتہائی شدید ہوتا ہے مگر اس بار تو گرمی کے مملکت میں رہائش پذیر افراد کے صحیح معنوں میں کڑاکے نکال دیئے ہیں۔ مملکت اس وقت گرمی کی شدید لہر کے نرغے میں ہے۔ بعض صحرائی علاقوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ کو چھُو رہا ہے۔ لوگوں نے اپنی آمد و رفت کو محدود کر دیا ہے اور محض انتہائی ضروری کام کی صورت میں گھروں اور دفاتر سے باہر نکلتے ہیں۔

جبکہ ماہرین نے خبر سُنائی ہے کہ جولائی اور اگست کے مہینوں میں مزید جھُلسا دینے والی گرمی امارات کی سرزمین کو اپنی غضبناکی کا نشانہ بنائے گی۔ دُبئی کے گرمی کے حالات بھی باقی مملکت کی طرح ہی ہیں۔ یہاں گرمی کے دوران ریکارڈ اضافہ دیکھنے کو مِلا ہے۔

(جاری ہے)

درجہ حرارت 44 سینٹی گریڈ سے 47 سینٹی گریڈ کے درمیان منڈلا رہا ہے جبکہ فضا میں نمی کا تناسب 90 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

نیشنل سنٹر آف میٹروجی کے 1977ء اور 2016ء کے سابقہ چالیس سالہ ریکارڈ کے مطابق دُبئی میں جُون کے دوران گرمی کا شدید ترین ریکارڈ 47.9‘ جولائی میں 48.5 ‘ اگست میں 48.8 ہے جبکہ ستمبر میں اب تک شدید درجہ حرات 45.1 ریکارڈ ہوا ہے۔ اس ریکارڈ سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی چالیس سالہ تاریخ کا گرم ترین دِن 2 جُون 2015ء تھا جب سویہان کے علاقے میں 51.2 سینٹی گریڈ گرمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

جبکہ رواں سال کے دوران متحدہ عرب امارات میں سب سے زیادہ گرمی 49.4 ریکارڈ کی گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے منگل کے روز ایک بجے سے چار بجے کے دوران نیشنل سنٹر آف میٹرولوجی نے میزیرہ کے علاقے میں درجہ حرات 49.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا۔ جب کہ اس کے بعد زیادہ گرمی الجزیرہ میں 48 درجہ ریکارڈ کی گئی۔۔گرمی کی شدت سے متاثر ہونے والے دُوسرے علاقے العین میں واقع ‘ العین میں واقع مُخارِظ اور یُو اے ای یونیورسٹی ہیں جہاں درجہ حرارت 47.9 سینٹی گریڈ کی انتہا کو چھُو گیا ‘ جبکہ قُوآ میں درجہ حرارت 47.8 کی شدت کو جا پہنچا ہے۔