اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کی مالی سرزنش کے واسطے ایک قانون منظور کیا

قیدیوں کے لیے مختص رقم کی کٹوتی کا اسرائیلی قانون اعلانِ جنگ ہے، فلسطینی اتھارٹی کا ردعمل

بدھ جولائی 12:00

مقبوضہ بیت المقدس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جولائی2018ء) فلسطینی اتھارٹی نے کہاہے کہ اسرائیل کا ٹیکس کی رقوم سے اٴْس رقم کی کٹوتی کرنے کا فیصلہ جو فلسطینی اتھارٹی اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کو ادا کرتی ہے، درحقیقت اعلانِ جنگ کے مترادف ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے جاری ایک بیان میں کہا کہ فلسطینی اتھارٹی اس خطرناک فیصلے کو یکسر مسترد کرتی ہے اور اسے اوسلو معاہدے سے اب تک تعلق کی بنیادوں کے لیے انتہائی ضرر رساں شمار کرتی ہے۔

اسرائیل نے فلسطنی اتھارٹی کی مالی سرزنش کے واسطے پیر کے روز ایک قانون منظور کیا۔ اسرائیلی پارلیمنٹ میں ہونے والی رائے شماری میں قانون کے حق میں 87 جب کہ مخالفت میں 15 ووٹ آئے۔

(جاری ہے)

پارلیمنٹ میں کل نشستوں کی تعداد 120 ہے۔ قانون اس امر کا متقاضی ہے کہ اسرائیل عبوری امن معاہدوں کے تحت فلسطینیوں کے نام پر ہر ماہ ٹیکس آمدن کی مد میں جو 13 کروڑ ڈالر وصول کرتا ہے اس کا ایک حصّہ روک لیا جائے۔

ابو ردینہ کے مطابق اس فیصلے پر عمل درامد کی صورت میں خطرناک اور دور روس اثرات سامنے آئیں گے۔ اس حوالے سے فلسطینی اتھارٹی کے سامنے تمام تر آپشنز کھلے ہیں جن میں بین الاقوامی فوجداری عدالت اور سلامتی کونسل شامل ہیں۔ادھر فلسطینی حکومت نے اس عزم کا اظہارکیا ہے کہ وہ اسرائیلی فیصلے کے باوجود اسرائیلی جیلوں میں موجود فلسطینی قیدیوں کے لیے مختص رقوم کی ادائیگی جاری رکھے گی۔رام اللہ میں اپنے اجلاس کے انعقاد کے بعد جاری بیان میں حکومت نے کہا کہ فلسطینی قیادت جن میں صدر محمود عباس سرفہرست ہیں، قیدیوں اور شہداء کے خاندانوں سے دست بردار نہیں ہو گی جنہوں نے وطن کے لیے اپنی عمریں اور زندگیاں داؤ پر لگا دیں۔