جرمن لڑکی کوقتل کرنیوالے عراقی مشتبہ قاتل کا ایک 11 سالہ لڑکی کا بھی ریپ کرنے کا اعتراف

الہ جرمن لڑکی سوزانا ایف کے ریپ اور قتل کے جرم میں گواہ افغان شہری کوبھی گرفتارکرلیا،جرمن استغاثہ

بدھ جولائی 12:00

برلن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جولائی2018ء) ایک 14 سالہ جرمن لڑکی کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے کے الزام میں گرفتار نوجوان عراقی مہاجر سے ایک اور 11 سالہ جرمن لڑکی کو بھی ریپ کرنے کے حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات جرمن دفتر استغاثہ کی طرف سے بتائی گئی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق جرمن شہر ویز باڈن کے دفتر استغاثہ کی طرف سے بتایا گیا کہ اس 20 سالہ عراقی مہاجر نے رواں برس مارچ کے مہینے میں ایک 11 سالہ جرمن لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر ایک 14 سالہ افغان لڑکے کے ساتھ مل کر مئی میں دوبارہ اٴْسی لڑکی سے زیادتی کی۔

اس عراقی ملزم کی شناخت علی بشار بتائی ہے۔دفتر استغاثہ کے مطابق پولیس نے افغان لڑکے کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ یہ لڑکا 14 سالہ جرمن لڑکی سوزانا ایف کے ریپ اور قتل کے جرم میں گواہ بھی ہے۔

(جاری ہے)

یہ عراقی نوجوان ان جرائم کے بعد جون کے اوائل میں اپنے خاندان سمیت عراق فرار ہو گیا تھا تاہم جرمن پولیس کی درخواست پر عراقی حکام نے اسے گرفتار کر کے نو جون کو جرمن حکام کے حوالے کر دیا تھا۔

یہ عراقی مشتبہ شخص 2015ء میں اٴْس وقت جرمنی آیا تھا جب جرمنی کو مہاجرین کا بحران درپیش تھا اور ایک ملین کے قریب مہاجرین جرمنی پہنچے تھے۔ بیس سالہ عراقی مہاجر پولیس کی نظروں میں تھا کیونکہ سیاسی پناہ کی اپنی درخواست کے معاملے پر یہ متعلقہ حکام سے بھی جھگڑا کر چکا تھا۔ اس کی سیاسی پناہ کی درخواست دسمبر 2016ء میں رد کر دی گئی تھی۔بشار پر پہلے بھی ویز باڈن کے مہاجرین سنٹر میں 11 سالہ جرمن لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا شبہ کیا گیا تھا تاہم اس وقت تفتیشی عمل کا حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا تھا۔

متعلقہ عنوان :